Times of Pakistan

امریکا۔ایران مذاکرات کے ایجنڈے میں لبنان سرفہرست، مزید کن معاملات پر بات ہوگی؟

8 hours ago 5
ARTICLE AD BOX

لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد تہران واشنگٹن سے معاہدے پر عمل درآمد کی واضح یقین دہانی چاہتا ہے: عرب میڈیا

امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے تکنیکی مذاکرات آج سے سوئٹزرلینڈ میں شروع ہو رہے ہیں۔ لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کو اس مرحلے پر بڑا چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں جنگ بندی طے شدہ مفاہمتی یادداشت کا بنیادی حصہ ہے اور اسرائیلی کارروائیاں اس کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں، جس کے باعث ان مذاکرات میں لبنان کی صورت حال اہم ترین موضوع بننے کا امکان ہے۔

امریکا اور ایران کے وفود آج سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں مذاکرات کے لیے موجود ہیں۔ یہ بات چیت دونوں ملکوں کے درمیان جمعرات کو مفاہمتی یادداشت (ای او یو) پر الیکٹرانک دستخط کے بعد ہورہے ہیں۔ جس میں دونوں وفود تکنیکی سطح پر حل طلب مسائل پر بات چیت کریں گے۔

ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے، جب کہ امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، ان کے ہمراہ صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔

اتوار کو ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستان اور قطر ثالث کا کردار ادا کریں گے۔ مذاکرات میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کی شرکت بھی متوقع ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان طے شدہ مفاہمتی یادداشت میں تمام محاذوں پر جنگ بندی پہلا نکتہ تھا تاہم اسرائیل کی جانب سے لبنان پر مسلسل حملے جاری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ہفتے کے روز لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باعث آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سوئٹرزلینڈ روانگی سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ ایران کے جوہری مسئلے اور لبنان میں جنگ بندی کے معاملے پر پیش رفت کے خواہاں ہیں۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایرانی وفد مذاکرات میں امریکا کی جانب سے مفاہمتی یادداشت میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کرے گا اور یہ جاننا چاہے گا کہ ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے واشنگٹن کے پاس کوئی پلان موجود ہے یا نہیں۔

ایجنڈے میں کیا کچھ شامل ہے؟

امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات 60 روز تک جاری رہیں گے۔ اس دوران دونوں ممالک کے حکام امن معاہدے کے آخری مرحلے، ایران کے جوہری پروگرام اور لبنان میں جنگ بندی جیسے اہم اختلافی نکات پر بات چیت کریں گے۔

تاہم ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا پہلا موضوع جوہری پروگرام نہیں بلکہ معاہدے پر عمل درآمد ہوگا۔

باقر قالیباف نے سوئٹزرلینڈ روانگی سے قبل کہا کہ ایران سب سے پہلے امریکا کو یاد دلانا چاہتا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد بعد ہی تکنیکی مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں۔

ایران جن نکات پر زور دے رہا ہے ان میں لبنان میں مستقل جنگ بندی، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، آبنائے ہرمز، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور پٹرولیم مصنوعات کے شعبے پر عائد امریکی پابندیوں کا خاتمہ شامل ہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے بھی خبردار کیا ہے کہ تہران صرف کاغذی معاہدہ قبول نہیں کرے گا بلکہ امریکا کو اپنے تمام وعدوں پر مکمل عمل درآمد کرکے دکھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی قیادت معاشی مفادات اور نقصانات کی زبان بہتر سمجھتی ہے، اس لیے اگر معاہدہ صرف کاغذوں تک محدود رہا تو مشرق وسطیٰ سے توانائی کی ترسیل دوبارہ متاثر ہو سکتی ہے۔

لبنان مذاکرات کا مرکزی موضوع

تجزیہ کاروں اور سفارتی حکام کے مطابق مذاکرات کے پہلے روز لبنان میں جنگ بندی کا معاملہ اہم ترین موضوع رہے گا۔

ایران امریکا معاہدے میں اسرائیل کا براہِ راست ذکر موجود نہیں، جب کہ اسرائیل لبنان کے ایک بڑے حصے پر قابض ہے اور مارچ کے مہینے سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر حملے کر رہا ہے۔ ان حملوں میں چار ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

جمعے کے روز اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی طے پانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے چند گھنٹوں بعد ہی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں درجنوں افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

معاہدے کی پہلی شق میں امریکا اور ایران نے تمام محاذوں، خصوصاً لبنان میں فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے پر اتفاق کیا تھا۔ اس کے علاوہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام بھی معاہدے کے نکات میں شامل ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو معاہدے کا پابند بنانا امریکا کی ذمہ داری ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ وہ مفاہمتی یادداشت پر مزید عمل درآمد اس وقت تک نہیں کرے گا جب تک اسرائیل بھی معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کرتا۔

جوہری پروگرام بھی اہم موضوع

اگرچہ مذاکرات کے پہلے مرحلے میں زیادہ تر توجہ لبنان پر مرکوز رہے گی، تاہم مذاکرات کے اگلے مراحل میں ایران کا جوہری پروگرام بھی ایک بنیادی موضوع ہوگا۔

امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران نہ تو جوہری ہتھیار حاصل کرے اور نہ ہی ایسی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کرے، جس سے وہ مستقبل میں جوہری ہتھیار بنا سکے۔

اس کے برعکس ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن اور سول مقاصد کے لیے ہے، البتہ اگر پابندیاں ہٹا دی جائیں تو وہ اپنی بعض جوہری سرگرمیوں پر حدود مقرر کرنے پر بات چیت کر سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز پر بھی تنازع

ایران نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے باعث آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی گئی ہے، تاہم امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ اہم آبی گزرگاہ تمام جہازوں کے لیے کھلی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق 20 جون تک آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا اور 55 تجارتی جہاز اس راستے سے گزرے، جن کے ذریعے عالمی منڈیوں تک 1 کروڑ 70 لاکھ بیرل سے زائد تیل پہنچایا گیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی کی 60 روزہ مدت کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی ٹول ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔

آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی نے عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات کو بھی اس بحران کا اہم پہلو قرار دیا جا رہا ہے۔

Read Entire Article