Times of Pakistan

یہودی آبادکاروں نے عید سے قبل فلسطینی چرواہے کی 45 بھیڑیں چرا لیں

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

رواں سال یہودی آباد کار فلسطینیوں کے تقریباً 4 ہزار مویشی چوری کرچکے ہیں: فلسطینی وزارتِ زراعت

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر حملوں اور ان کی املاک کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عید الاضحیٰ کی آمد سے قبل مسلح اسرائیلی آباد کاروں نے ایک فلسطینی چرواہے کی درجنوں بھیڑیں چھین کر عید کی خوشیاں اور روزگار کا واحد ذریعہ چھین لیا۔

فلسطینی خاتون سمیحہ راشد نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ وہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر اپنے خاندان کے لیے قربانی کی تیاری کر رہی تھیں، تاہم 21 مئی کو صبح سویرے یہودی آبادکاروں نے ان کے گھر پر دھاوا بولا اور تقریباً 45 بھیڑیں چھین کر لے گئے۔

سمیحہ راشد کے مطابق یہ واقعہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے قریب واقع فلسطینی دیہات کے مجموعے مسافر یطا میں پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس واردات سے قبل آبادکاروں نے محافظ کتوں کو غائب کیا، جس کے باعث کسی کو حملہ آوروں کی آمد کا علم نہ ہو سکا۔

’رائٹرز‘ سے بات کرتے ہوئے خاتون نے نم آنکھوں کے ساتھ بتایا ’یہ ہمارا روزگار ہے، میں اور میرا شوہر ان بھیڑوں کی آمدنی پر ہی گزارہ کرتے ہیں۔ میرے شوہر کینسر کے مریض ہیں اور اب میرے پاس ان کے علاج یا خود پر خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں بچا‘۔

سمیحہ رشید کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے چرواہوں پر حملے اب روز کا معمول بن چکے ہیں، جس میں گھروں میں اور بچوں پر ’پیپر گیس‘ (مرچوں والا اسپرے) کا استعمال بھی شامل ہے۔

یہودی آبادکاروں کی جانب سے مویشی چوری کی ایک فوٹیج بھی وائرل ہے جس میں نقاب پوش افراد کو فارم سے بھیڑیں نکال کر لے جاتے دیکھا جاسکتا ہے۔ رائٹرز نے سیٹلائٹ اور ’آرکائیو امیجری‘ کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ مقام مسافر یطا کے قریب ہی واقع ہے۔

رائٹرز کی جانب سے اسرائیلی آبادکاروں کی اس چوری پر مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کرنے پر مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی میونسپل کونسلوں کی نمائندگی کرنے والی ’یشا کونسل‘ اور اسرائیلی فوج نے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے معاملہ اسرائیلی پولیس کے حوالے کرنے کا بہانہ کیا۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے تشدد میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ ان حملوں کو ’یہودی دہشت گردی‘ اور قومی شرمندگی قرار دے چکے ہیں۔

فلسطینی طویل عرصے سے مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی یروشلم پر مشتمل ایک آزاد ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ یہ تمام علاقے 1967 سے اسرائیلی قبضے میں ہیں۔ زیادہ تر ممالک ان علاقوں میں قائم یہودی بستیوں کو غیر قانونی سمجھتے ہیں، تاہم اسرائیل تاریخی اور مذہبی بنیادوں پر اس موقف کو مسترد کرتا آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی حکومتی اتحادی جماعتیں مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے تیزی سے پھیلاؤ کی حمایت کر رہی ہیں اور بعض وزرا کھلے عام مغربی کنارے کے انضمام کی وکالت بھی کرتے ہیں۔

یورپی یونین کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں سات لاکھ سے زائد یہودی آبادکار تیس لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کے درمیان رہائش پذیر ہیں۔

فلسطینی وزارتِ زراعت کے ترجمان محمود فتافطہ کے مطابق 2026 کے آغاز سے اب تک یہودی آباد کار فلسطینیوں کے تقریباً 4 ہزار مویشی چوری کرچکے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان حملوں کے باعث فلسطینی کسانوں کو اب تک 50 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

Read Entire Article