ARTICLE AD BOX
.
ان دنوں کراچی کی یونیورسٹی روڈ کے بارے میں بہت باتیں ہو رہی ہیں، اور اس کی موجودہ حالت کے حوالے سے یہ کئی لطیفوں کا موضوع بھی بنی ہوئی ہے، لیکن اس کی تاریخ اور اس اہم کردار کے بارے میں بہت کم معلومات موجود ہیں جو اس نے اپنے وجود کے دوران، خاص طور پر نوجوانوں اور طلبہ کی زندگی میں ادا کیا، بالخصوص 1959 میں جامعہ کراچی کی اس علاقے میں منتقلی کے بعد سے۔
اس سڑک کے اردگرد ماحول میں کتنی تبدیلی آ چکی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ابتدائی دنوں میں ایک مقامی اردو اخبار میں ایک ہفتہ وار کالم ”کراچی سے 12 میل دور“ کے عنوان سے شائع ہوتا تھا۔ یہ جامعہ کراچی کی سرگرمیوں پر مبنی مستقل کالم تھا۔
اس وقت یونیورسٹی واقعی شہر سے کافی فاصلے پر تھی، اور اگرچہ کچھ طلبہ کے پاس اپنی سواری موجود تھی، لیکن اکثریت بسوں کے ذریعے سفر کرتی تھی۔ ابتدا میں اس سڑک کو کنٹری کلب روڈ کہا جاتا تھا، اور یونیورسٹی کے قیام کے بعد اس کا نام یونیورسٹی روڈ رکھ دیا گیا۔ اس سڑک کی خاموش گزرگاہ سے ایک مصروف شہری شاہراہ میں تبدیلی 1960 سے 1990 کے دوران گلشنِ اقبال اور گلستانِ جوہر جیسے اطرافی علاقوں کی ترقی کے بعد آئی۔ رہائشی علاقوں نے تجارتی سرگرمیوں کو جنم دیا، جن سے مزید عمارتیں تعمیر ہوئیں اور نتیجتاً ٹریفک میں اضافہ ہوا۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور کاروباری مراکز کے باعث اب اس سڑک پر شدید ٹریفک جام رہتا ہے، جبکہ ایک زمانے میں یہ زیادہ تر یونیورسٹی کے طلبہ اور عملے کے استعمال میں رہتی تھی۔
گویا یہ کافی نہیں تھا کہ اس سڑک پر ٹریفک کئی گنا بڑھ گئی، بلکہ اسے ٹریفک بہتری کے ایک منصوبے میں بھی شامل کر لیا گیا اور تیزی سے کام مکمل کرنے کے وعدوں کے ساتھ اسے کھود دیا گیا تاکہ اس سڑک کی قسمت بدل دی جائے۔ لیکن جیسا کہ اکثر منصوبوں میں ہوتا ہے، عملدرآمد کے دوران کئی تبدیلیاں شامل کی گئیں، جس سے یہ منصوبہ ایک دن سے دوسرے دن اور پھر ایک سال سے دوسرے سال تک تاخیر کا شکار ہوتا گیا۔
اس سڑک پر بڑھتی ہوئی بھیڑ اور ٹریفک کے باوجود منصوبے پر کام جاری ہے کیونکہ ظاہر ہے اسے درمیان میں چھوڑا نہیں جا سکتا، ورنہ اس اہم شاہراہ پر مزید رکاوٹیں اور بدترین ٹریفک مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ اگرچہ کام کی رفتار کافی سست ہو گئی ہے، لیکن اب خبریں آ رہی ہیں کہ جلد ہی اس پر دوبارہ بھرپور انداز میں کام شروع ہو گا، اور سب لوگ امید لگائے بیٹھے ہیں۔
یہ تو صرف اس اہم شاہراہ پر جاری ترقیاتی کام کے بارے میں مختصر ذکر تھا، لیکن اصل کہانی اس سڑک کی ہے جو جامعہ کراچی کی طرف جاتی ہے، اور یہ کہ خود یونیورسٹی میں حالات کیسے بدل چکے ہیں۔
درحقیقت، پورے ملک اور خاص طور پر کراچی کے تعلیمی ماحول میں طلبہ یونین انتخابات پر پابندی کے بعد بہت تبدیلی آ چکی ہے۔ طلبہ یونینز، یا بعض تعلیمی اداروں میں جنہیں اسٹوڈنٹ کونسلز کہا جاتا تھا، کے انتخابات پورے شہر میں ایک ہی دن منعقد ہوتے تھے۔ اس دن پورا شہر ایک تہوار کا منظر پیش کرتا تھا، جہاں تمام تعلیمی ادارے مختلف امیدواروں کے بینرز اور پوسٹروں سے سجے ہوتے تھے۔
پولنگ سے پہلے کے دنوں میں تمام ادارے، خاص طور پر جامعہ کراچی، سرگرمیوں سے بھرے رہتے تھے۔ مختلف امیدواروں کی کارنر میٹنگز پورے کیمپس میں منعقد ہوتی تھیں، جو امیدواروں کے منشور اور خیالات کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ بنتی تھیں۔
آرٹس فیکلٹی کا لان یونیورسٹی کے تمام امیدواروں کے لیے گویا نشتر پارک کی حیثیت رکھتا تھا، جہاں وہ باری باری نہایت نظم و ضبط کے ساتھ اپنے خیالات پیش کرتے تھے۔ منشوروں اور پمفلٹس کی نقول تقسیم کی جاتیں اور سامعین انہیں سنجیدگی سے پڑھتے تھے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ کوئی تشدد نہیں ہوتا تھا۔ ان دنوں یونیورسٹی روڈ بھی سرگرمیوں سے بھری رہتی تھی، جہاں مختلف امیدواروں کے حامی جلوسوں کی صورت میں آتے جاتے اور اپنے امیدواروں کے حق میں نعرے لگاتے تھے۔
یونیورسٹی روڈ کوئی عام سڑک نہیں بلکہ اس کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ کئی مشہور شخصیات نے اسی سڑک پر سفر کر کے اپنی تعلیمی اسناد حاصل کیں، جن کی بنیاد پر وہ چیئرمین سینیٹ، صوبائی محتسب، گورنر اور اس سے بھی اعلیٰ عہدوں تک پہنچے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سڑک ہمیشہ خبروں میں رہتی ہے۔ امید قائم رکھیے، اس بار حکومت واقعی اس سڑک کو مکمل کرنے میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہے، اور جلد ہی ہم تمام مشکلات اور پریشانیوں کو بھول کر ایک نئی یونیورسٹی روڈ کے فوائد سے لطف اندوز ہوں گے۔
نوٹ: یہ تحریر 11 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
.png)
13 hours ago
4




English (US) ·