ARTICLE AD BOX
شائع 20 فروری 2026 03:35pm
سپریم کورٹ نے ہرجانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روک دیا۔
جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے حکم امتناع جاری کیا، سپریم کورٹ نے شہباز شریف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، عدالت نے کہا کہ کیس کو جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے گا۔
دورانِ سماعت جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ اس مقدمے میں ان کا اختلافی نوٹ موجود ہے جبکہ دو ججز نے حقِ دفاع ختم کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا تھا۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کو ٹانگ میں گولی لگی تھی اور زخمی ہونے کی وجہ سے وہ ٹرائل کورٹ میں پیش نہ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود ٹرائل کورٹ نے عدم پیروی کی بنیاد پر بانی پی ٹی آئی کا حقِ دفاع ختم کردیا۔
جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ جب ٹرائل کورٹ نے دو مختلف تاریخوں پر بانی پی ٹی آئی کے زخمی ہونے کو تسلیم کیا تھا تو پھر ایسے حالات میں حقِ دفاع کیسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اس معاملے پر سوالات اٹھاتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی کارروائی پر حکمِ امتناع جاری کردیا۔
سپریم کورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔ یاد رہے کہ شہباز شریف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف دس ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا ہے۔ ٹرائل کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کا حقِ دفاع ختم کیے جانے کے بعد شہادتیں قلمبند کرنے کا عمل جاری تھا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کردی۔
.png)
3 weeks ago
12






English (US) ·