Times of Pakistan

گرمیوں میں ناک سے خون بہنے پر کیا کریں؟

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

موسم گرما کے آتے ہی صحت سے متعلق کئی مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں جن میں سے ایک عام اور پریشان کن مسئلہ ناک سے خون بہنا ہے جسے عام طور پر نکسیر پھوٹنا بھی کہا جاتا ہے۔ تپتی دھوپ اور شدید گرمی کے باعث اچانک ناک سے خون نکلنے پر اکثر لوگ گھبرا جاتے ہیں، حالانکہ ماہرین کے مطابق بیشتر صورتوں میں یہ کیفیت فوری تشویش کا باعث نہیں ہوتی۔

طبی ماہرین کے مطابق گرمی میں نکسیر پھوٹنے کی مخصوص وجوہات ہوتی ہیں اور اگر بروقت چند سادہ باتوں پر عمل کر لیا جائے تو اس مسئلے پر فوری قابو پایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق شدید گرمی کے موسم میں ناک کے اندرونی حصے میں خشکی پیدا ہو جاتی ہے یا پھر جو لوگ طویل عرصے تک ایئر کنڈیشنر یعنی اے سی میں بیٹھتے ہیں ان کے ساتھ بھی یہ مسئلہ پیش آ سکتا ہے۔

۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں ناک کی اندرونی نازک جھلی خشک ہو کر پھٹنے لگتی ہے اور بعض اوقات خون کی کمزور رگیں ٹوٹ جاتی ہیں جس کے نتیجے میں خون بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ بعض افراد میں ہائی بلڈ پریشر یا ناک کی اندرونی سوزش بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔

ہنگامی حالت میں کیے جانے والے اقدامات پر ماہرین نے کہا ہے کہ اگر ناک سے خون بہنا شروع ہو جائے تو گھبرانے کے بجائے چند اہم باتوں پر عمل کرنا چاہیے جس سے خون کا بہاؤ کچھ ہی دیر میں کم ہو جاتا ہے۔

خون آنے کی صورت میں تیز چلنے یا بھاگنے کے بجائے خاموشی سے ایک جگہ بیٹھ جائیں۔

یہاں ماہرینِ صحت ایک عام غلط فہمی کی تصحیح کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ نکسیر پھوٹنے پر اکثر لوگ سر کو پیچھے کی طرف جھکا لیتے ہیں یا سیدھے لیٹ جاتے ہیں، جبکہ جدید طبی تحقیق کے مطابق یہ طریقہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

سر پیچھے کرنے یا لیٹنے سے خون حلق کے پچھلے حصے میں چلا جاتا ہے جس سے کھانسی، متلی یا الٹی آ سکتی ہے اور سانس کی نالی میں رکاوٹ کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔

ہنگامی حالت میں درست طریقہ یہ ہے کہ مریض آرام سے بیٹھ جائے اور اپنے سر کو معمولی سا آگے کی طرف جھکائے تاکہ خون ناک کے راستے باہر نکل جائے اور حلق میں نہ جائے۔

طبی ماہر کے مطابق اس دوران ایک اور اہم بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ مریض ناک کے بجائے منہ سے سانس لینے کی کوشش کرے۔ منہ سے سانس لینے سے ناک کو کچھ دیر کے لیے آرام ملتا ہے اور خون جمنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔

اگر خون پھر بھی نہ رک رہا ہو تو ناک کو سامنے کی طرف سے نرمی سے دبائیں تاکہ اندرونی دباؤ پیدا ہو اور خون بند ہو جائے، تاہم ناک کو بہت زیادہ سختی سے نہیں پکڑنا چاہیے بلکہ صرف اتنا دبانا کافی ہے کہ ناک بند ہو جائے۔

خون کو روکنے کے لیے برف کا استعمال بھی انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔ ایک صاف سوتی رومال میں برف کا ٹکڑا لپیٹ کر اسے ناک اور اس کے آس پاس کے حصے پر رکھ کر آہستہ آہستہ ٹکور کرنی چاہیے۔ برف سے ٹکور کرنے سے ناک کی اندرونی سوزش کم ہوتی ہے اور ٹھنڈک ملنے کی وجہ سے خون کا بہاؤ فوری طور پر رک جاتا ہے۔

مستقبل میں اس مسئلے سے بچنے کے لیے خوراک اور روزمرہ کی عادات میں کچھ آسان تبدیلیاں بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ گرمی کے موسم میں جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں اور دن بھر میں کم از کم آٹھ سے دس گلاس پانی یا تازہ مشروبات کا استعمال یقینی بنائیں تاکہ ناک کے اندرونی حصے میں نمی برقرار رہے۔

ایئر کنڈیشنر والے کمروں میں زیادہ وقت گزارنے والے افراد رات کو سوتے وقت ناک کے اندرونی حصے پر ہلکا سا پیٹرولیم جیلی یا ناریل کا تیل لگا سکتے ہیں جس سے خشکی کا خاتمہ ہوتا ہے۔

دھوپ میں نکلتے وقت سر اور چہرے کو کپڑے یا چھتری سے ڈھانپ کر رکھیں اور بچوں کے ناخن باقاعدگی سے تراشیں کیونکہ ناخن چبانے یا ناک میں انگلی ڈالنے سے بھی اندرونی نازک رگیں متاثر ہو کر خون بہنے کا سبب بنتی ہیں۔

اس کے علاوہ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ جن لوگوں کو گرمیوں میں نکسیر پھوٹنے کا عارضہ لاحق ہوتا ہے انہیں زیادہ تلی ہوئی چیزوں، مرچ مصالحوں اور گرم تاثیر والی غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے اور بہت زیادہ گرمی یا اچانک بہت زیادہ سرد ماحول میں جانے سے بچنا چاہیے۔ عام درجہ حرارت میں رہنا صحت کے لیے سب سے بہترین ہے تاکہ نکسیر پھوٹنے کی نوبت ہی نہ آئے۔

بچوں کے ساتھ بھی ایسا معاملہ پیش آنے پر والدین کو یہی طریقے اپنانے چاہئیں اور اگر کافی دیر تک خون نہ رکے تو فوری طور پر قریبی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ نکسیر اکثر معمولی وجوہات کی بنا پر ہوتی ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ دیگر علامات بھی موجود ہوں یا خون بہنے کا سلسلہ مسلسل جاری رہے تو طبی معائنہ کرانا ضروری ہے تاکہ کسی ممکنہ بنیادی بیماری کی بروقت تشخیص ہو سکے۔

Read Entire Article