ARTICLE AD BOX
خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری ہسپتالوں کے بعد اب صوبے میں ہسپتالوں میں بعض ڈائیگناسٹک سہولیات کو بھی آوٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جسکے تحت ابتدائی طور پر چھ سرکاری ہسپتالوں کو منتخب کرلیا گیا ہے جہاں مریضوں کو بلا تعطل تشخیصی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینیں نصب کرنے کی جائیں گی۔ ان تشخیصی خدمات کی آؤٹ سورسنگ ہیلتھ فاؤنڈیشن خیبرپختونخوا کے ذریعے کی جائے گی۔محکمہ صحت کی جانب سے اس سلسلے میں تیاری مکمل کرلی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال کوہاٹ، ڈی ایچ کیو سوات، ڈی ایچ کیو بٹ خیلہ اور ڈی ایچ کیو مالاکنڈ میں ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینیں فراہم کی جائیں گی، جبکہ تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال تخت بھائی مردان اور کیٹیگری ڈی ہسپتال گڑہ تاجک پشاور کو سی ٹی اسکینرز دیے جائیں گے۔ اسی طرح ڈی ایچ کیو تیمرگرہ کو ایم آر آئی مشین اور اسکینر فراہم کی جائیں گے۔صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان کے مطابق یہ اقدام حکومت کی اس پالیسی کے مطابق ہے جس کا مقصد پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے ذریعے صحت کی سہولیات کے معیار اور دائرہ کار کو بہتر بنانا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں اس کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت شعبہ صحت میں اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت نجی شعبے کے تعاون سے جدید تشخیصی امیجنگ سہولیات تک مریضوں کی رسائی کو بہتر بنانا چاہتی ہے، تاکہ سرکاری ہسپتالوں میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی کی سہولت دستیاب ہو، مریضوں کے ریفرل میں کمی آئے، طبی فیصلوں کے معیار میں بہتری ہو اور مریضوں کے ذاتی اخراجات کم سے کم ہوں۔ انکا مزید کہنا ہے کہ یہ مشینیں انتہائی مہنگی ہیں اور چھ ہسپتالوں کے لیے اتنی بڑی تعداد میں ان کی فراہمی آسان نہیں تھی۔اس لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا آپشن استعمال کیا جارہا ہےانہوں نے مزید بتایا کہ اس سے قبل حکومت ہیلتھ فاؤنڈیشن کے ذریعے اب تک 24 ہسپتالوں کی خدمات آؤٹ سورس کر چکی ہے، جن میں زیادہ تر ضم شدہ اضلاع شامل ہیں جہاں سہولیات میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ محکمہ صحت نے مستقل میں مزید 72 ہسپتالوں کے فہرست تیار کی ہے جنکو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دیا جائے گا۔ان سب ہسپتالوں کےلئے مانیٹرنگ سسٹم کو بھی مزید مضبوط بنایا جارہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت کئی اضلاع کے بڑے ہسپتالوں میں ان ڈائگناسٹک سروسز کی عدم فراہمی سے نہ صرف مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے بلکہ ان ہسپتالوں سے مریضوں کو پشاور اور دیگر بڑے ایم ٹی آئیز ہسپتالوں کو بھیجا جارہا ہے جس سے خصوصا پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال سمیت تینوں بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کا شدید رش ہے اور اس سے تشخیصی مشینوں پر بھی بوجھ میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب مریضوں کو بسا اوقات ان تشخیصی ٹیسٹوں کے لئے انتہائی لمبی لمبی تاریخیں بھی دی جاتی ہیں۔جس سے مریضوں کی بڑی تعداد پریشانی میں مبتلا ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ محکمہ صحت کی پالیسی اور پیچیدہ طریقہ کار کے تحت معمولی آلات کی مرمت میں بھی مہینوں لگ جاتے ہیں۔جسکی وجہ سے ہسپتالوں سے آئے روز شکایات سامنے آرہی ہیں۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دئے جانے والے ہسپتالوں میں شراکتی ادارے مشینوں کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہوں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مریضوں کو بلا تعطل خدمات فراہم کی جائیں۔اس کےلئے بہتر ادارے جنہیں تشخیصی شعبے میں تجربہ اور اچھا ٹریک ریکارڈ ہو انکو منتخب کیا جائے گا۔محکمہ صحت کے اعلی حکام کے مطابق خیبر پختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (کیپرا) میں رجسٹرڈ کمپنیوں سے باضابطہ طور پر بولیاں طلب کی گئی ہیں تاکہ وہ قواعد و ضوابط کی شرائطِ کے مطابق ان خدمات کی فراہمی میں اپنی دلچسپی ظاہر کریں۔ منتخب نجی شراکتی ادارے سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی سروسز کی مکمل لائف سائیکل ڈلیوری کا ذمہ دار ہوگا، جس میں ڈیزائن، فنانسنگ، تنصیب، قیام، آپریشن، انتظام اور سہولیات کی دیکھ بھال شامل ہوگی۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شراکتی اداروں پر لازم ہوگا کہ وہ مشینوں کی تنصیب سمیت عملے کی فراہمی اور دیکھ بھال کو یقینی بنائیں اور مریضوں کو سرکاری نرخوں پر خدمات فراہم کی جائیں۔ ذرائع کے مطابق دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں کو ہدایات کی گئی ہیں کہ وہ اپنی بولیاں 15 مئی تک جمع کرادیں۔ اس حوالے سے انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کے حاصل کردہ ڈیٹا کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے اور تمام ایسے ہسپتال جنکی کارکردگی متعین کردہ اشارے سے کم ہوگی انکو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دیا جائے گا۔
زرائع کے مطابق حکومت اُن ہسپتالوں اور خدمات کو بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہی ہے جو عملے کی غیر حاضری اور سہولیات کی کمی کے باعث مطلوبہ کارکردگی نہیں دکھا رہے ہیں۔
.png)
9 hours ago
3






English (US) ·