ARTICLE AD BOX
اگر نل کے پانی میں کچھ نقصان دہ کیمیکل موجود ہوں تو اُبالنے سے وہ ختم ہوسکتے ہیں؟
شائع 17 جولائ 2026 11:06am
عام طور پر لوگ پینے کے پانی کے لیے فلٹر استعمال کرتے ہیں، لیکن کھانا پکانے کے لیے یہ احتیاط نہیں کی جاتی اور گمان کیا جاتا ہے کہ پکنے کے بعد پانی ہرنقصان سے پاک ہوجاتا ہے لہٰذا اکثر گھروں میں کھانا پکانے کے لیے نل کا پانی استعمال کرنا ایک معمول کی بات ہے۔
اس سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سوچ مکمل طور پر درست نہیں ہے ۔ اگر پانی کو پینے سے پہلے صاف کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے تو کھانا پکانے کے لیے بھی یہی احتیاط اختیار کرنا بہتر ہے۔
ماہرین کے مطابق پانی کو اُبالنے سے اس میں موجود کئی خطرناک جراثیم، بیکٹیریا، وائرس اور کچھ پیراسائٹس ختم ہو سکتے ہیں، لیکن پانی میں موجود کیمیائی مادے ختم نہیں ہوتے۔ یعنی ایسا پانی جو دیکھنے میں صاف ہو اور جسے اُبالا بھی گیا ہو، اس میں کچھ ایسے اجزا باقی رہ سکتے ہیں جو صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
برٹانیکا کے مطابق پانی کو گرم کرنے سے جراثیم تو ختم ہو جاتے ہیں، لیکن بھاری دھاتیں، نمکیات اور دیگر کیمیائی آلودگی جیسے سیسہ، آرسینک، فلورائیڈ، نائٹریٹس اور صنعتی کیمیکل پانی میں موجود رہ سکتے ہیں۔
لوگوں میں یہ بہت عام غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اُبالنے کے بعد پانی مکمل طور پر محفوظ ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرمی بیکٹیریا اور وائرس کے خلاف مؤثر ہے، لیکن یہ کیمیائی آلودگی کو ختم نہیں کرتی۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر نل کے پانی میں کچھ نقصان دہ کیمیکل موجود ہوں تو صرف اُبالنے سے وہ ختم نہیں ہوں گے۔
ماہرین نے ایک اور اہم پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ بعض صورتوں میں پانی کو زیادہ دیر تک اُبالنے سے کچھ آلودہ مادوں کی مقدار بڑھ بھی سکتی ہے۔ جب پانی اُبل کر بھاپ کی شکل میں کم ہوتا ہے تو اس میں موجود تحلیل شدہ کیمیکل باقی پانی میں زیادہ مقدار میں رہ جاتے ہیں، جس سے ان کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
امریکی ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ (ای پی اے) کے مطابق گرم پانی میں سیسے کے گھلنے کا امکان ٹھنڈے پانی کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتا ہے، اس لیے بعض حالات میں گرم پانی میں سیسے کی مقدار زیادہ پائی جا سکتی ہے۔
امریکی ارضیاتی سروے (یو ایس جی ایس) کی اس جامع ریسرچ کے مطابق، امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں نل کے پینے کے پانی کے تقریباً نصف یعنی کم از کم 45 فیصد حصے میں پی ایف اے ایس یا ’فورایور کیمیکلز‘ کی موجودگی کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کی مقدار نجی کنوؤں اور سرکاری سپلائی دونوں میں یکساں پائی گئی۔
یہ مصنوعی کیمیکلز، جو نان اسٹک برتنوں اور فاسٹ فوڈ کے ڈبوں جیسی روزمرہ اشیاء میں استعمال ہوتے ہیں، ماحول اور انسانی جسم میں بہت آہستہ آہستہ ٹوٹتے ہیں اور ان کا مسلسل استعمال صحت کے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ ریسرچ کے مطابق، نل کے پانی کے جن نمونوں میں بھی ان زہریلے کیمیکلز کی شناخت ہوئی، ان میں ان کی مقدار ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) کی مقرر کردہ محفوظ حد سے تجاوز کر چکی تھی، جو خاص طور پر شہری اور صنعتی علاقوں کے نلکوں میں زیادہ دیکھی گئی۔
انہیں فور ایور کیمیکلز کیوں کہا جاتا ہے اس کی وجہ ان میں موجود کاربن اور فلورین کے ایٹموں کا کیمیائی بونڈ ہے جو مضبوط ترین جوڑوں میں سے ایک ہوتا ہے۔ اس غیر معمولی مضبوطی کی وجہ سے یہ کیمیکلز ماحول میں قدرتی طور پر کبھی نہیں ٹوٹتے، بلکہ مٹی، پانی، ہوا اور یہاں تک کہ انسانی جسم اور خون میں داخل ہو کر ہمیشہ کے لیے وہیں جم جاتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مقدار مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔
حالیہ برسوں میں پانی میں موجود مائیکرو پلاسٹکس بھی ماہرین کی تشویش کا باعث بنے ہیں۔ یہ پلاسٹک کے انتہائی چھوٹے ذرات ہوتے ہیں جو عام آنکھ سے نظر نہیں آتے اور ذائقے یا بو سے بھی ان کی موجودگی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ ماہرین کے مطابق تحقیق میں پینے کے پانی میں ایسے ذرات کی موجودگی سامنے آئی ہے، جن کے طویل مدتی اثرات پر مزید تحقیق جاری ہے۔
تاہم ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اگر کسی نے ایک بار نل کے پانی سے چاول یا کوئی اور کھانا پکایا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ فوری طور پر کوئی نقصان ہو جائے گا۔ اصل تشویش مسلسل اور طویل عرصے تک آلودہ پانی کے استعمال سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر تھوڑی مقدار میں نقصان دہ مادے بار بار جسم میں داخل ہوتے رہیں تو وقت کے ساتھ ان کے اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔
خطرہ ایک کھانے سے نہیں بلکہ مسلسل استعمال سے جڑا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھانا پکانے کے لیے استعمال ہونے والے پانی کو بھی روزمرہ کی غذا کا حصہ سمجھنا چاہیے، کیونکہ پانی میں موجود چیزیں بالآخر جسم کا حصہ بن سکتی ہیں۔
اگرعلاقے کے نل کے پانی کا معیاربہتر نہ ہو پانی آلودہ ہو تو صرف اُبالنے پر انحصار کرنے کے بجائے پانی کو پہلے فلٹر کرنا یا محفوظ ذریعہ اختیار کرنا بہتر ہے، کیونکہ کچھ کیمیائی آلودگیاں اُبالنے سے ختم نہیں ہوتیں لہٰذا ماہرین کے مطابق اگر گھر میں واٹر فلٹر موجود ہے تو پینے کے ساتھ ساتھ کھانا پکانے کے لیے بھی فلٹر شدہ پانی استعمال کریں۔ گھر میں استعمال ہونے والے پانی کے معیار پر توجہ سے روزمرہ زندگی میں صحت کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
.png)
1 hour ago
2





English (US) ·