ARTICLE AD BOX
شائع 08 جولائ 2026 10:30am
نوجوانوں اور بچوں میں وقت سے پہلے بالوں کا سفید ہونا اب ایک انتہائی عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جسے اکثر لوگ اسے پڑھائی یا نوکری کا تناؤ، آلودگی اور خراب پانی کا نتیجہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر بار ایسا نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات وقت سے پہلے بالوں کی سفیدی کسی اندرونی اور سنگین بیماری کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں بروقت طبی معائنہ کئی بیماریوں کی جلد تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بالوں کا قدرتی رنگ ”میلانن“ نامی مادے کی وجہ سے برقرار رہتا ہے۔ جب جسم میں میلانن بننے کا عمل متاثر ہو یا اس کی پیداوار کم ہو جائے تو بال سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ تبدیلی کم عمر میں نمایاں ہونے لگے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
پاکستان جیسے ملک میں یہ مسئلہ کئی اضافی عوامل کی وجہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ گرمی کی شدید لہریں، فضائی آلودگی، دھول مٹی، غیر متوازن غذا، فاسٹ فوڈ کا بڑھتا ہوا استعمال، نیند کی کمی اور جسم میں وٹامن ڈی، آئرن اور دیگر غذائی اجزا کی کمی بالوں کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
جسم میں پیدا ہونے والی چند مخصوص بیماریاں اور غذائی اجزاء کی شدید کمی بھی بالوں کو تیزی سے سفید کرنے کا سبب بنتی ہے۔
وٹامن بی12 کی کمی
طبی ماہرین کے مطابق جسم میں وٹامن بی 12 کی کمی بالوں کی صحت پر بہت برا اثر ڈالتی ہے۔ جب جسم کو یہ اہم وٹامن نہیں ملتا تو بالوں کی جڑیں کمزور ہو جاتی ہیں اور وہ اپنی اصل رنگت کھونے لگتے ہیں۔ اس کمی کی وجہ سے انسان کو ہر وقت تھکاوٹ، کمزوری اور چکر آنے کی شکایت بھی رہتی ہے۔
تھائیرائیڈ کے مسائل
گلے میں موجود تھائیرائیڈ گلینڈ کی خرابی بھی بالوں کی دشمن ہے۔ اگر کسی شخص کا تھائیرائیڈ لیول بہت زیادہ یا بہت کم ہو جائے تو بال نہ صرف تیزی سے گرتے ہیں بلکہ چھوٹی عمر میں ہی سفید ہو جاتے ہیں۔
خون کی کمی
خون کی کمی یعنی آئرن کی کمی بھی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جب جسم میں خون کی کمی ہوتی ہے تو بالوں کی جڑوں تک آکسیجن اور ضروری غذائیت نہیں پہنچ پاتی، جس سے بال عمر سے پہلے سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
وٹیلیگو
ایک اور اہم وجہ ’وٹیلیگو‘ نامی بیماری ہے جسے عام زبان میں برص کہا جاتا ہے۔ اس بیماری میں جلد کے ساتھ ساتھ کھوپڑی کا وہ حصہ بھی اپنی قدرتی رنگت کھو دیتا ہے جہاں یہ اثر کرتی ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ حصے کے بال بالکل سفید ہو جاتے ہیں۔
مسلسل تناؤ
ان سب بیماریوں کے ساتھ ساتھ ہر وقت کی ذہنی پریشانی اور مسلسل تناؤ بھی بالوں کی رنگت کو تیزی سے ختم کرتا ہے۔ مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ طویل عرصے تک رہنے والا تناؤ بالوں کے رنگ پیدا کرنے والے خلیوں کو متاثر کرتا ہے، جس سے سفید بال جلد ظاہر ہونے لگتے ہیں۔
اگر آپ کو چھوٹی عمر میں اچانک اور بہت تیزی سے بالوں کی سفیدی کا سامنا ہو یا اس کے ساتھ جسم میں شدید کمزوری، تھکاوٹ اور وزن کا اچانک گرنا یا بڑھنا محسوس ہو تو اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے فوری طور پر کسی اچھے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ وقت پر اصل بیماری کا پتا چل سکے۔
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·