Times of Pakistan

کرنٹ لگ جائے تو کیا کریں؟ وہ 4 فوری اقدامات جو کسی کی جان بچا سکتے ہیں

16 hours ago 3
ARTICLE AD BOX

بجلی کا کرنٹ لگنا ایک ایسا خطرناک حادثہ ہے جس کی وجہ سے ہر سال ہزاروں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو کرنٹ لگ جائے تو گھبرانے کے بجائے فوری اور درست اقدامات کرنا بہت ضروری ہے، کیونکہ چند لمحوں میں کیا گیا صحیح فیصلہ کسی کی جان بچا سکتا ہے۔

بجلی کا کرنٹ کسی بھی وقت کسی بھی تار یا بجلی کی چیز میں آ سکتا ہے اور اسے چھونا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اگر کسی کو کرنٹ لگ جائے تو سب سے پہلے کیا کرنا چاہیے۔

کچھ ایسے طریقے ہیں جن پر فوری عمل کر کے کسی کی زندگی بچائی جا سکتی ہے۔

کرنٹ لگنے سے انسان کی موت اس لیے ہو جاتی ہے کیونکہ یہ سب سے پہلے جسم کے ان حصوں پر اثر کرتا ہے جن کے سہارے ہم زندہ رہتے ہیں، جیسے ہمارا دل، سانس کا نظام اور دماغ۔

بجلی کا کرنٹ دل کی دھڑکن کے نظام کو بگاڑ دیتا ہے جس سے دل کام کرنا بند کر دیتا ہے۔ یہ سانس لینے والے پٹھوں اور دماغ کے ان حصوں کو بھی متاثر کرتا ہے جو سانس کو قابو کرتے ہیں۔ کئی بار جب کوئی تار ہاتھ میں چپک جاتی ہے تو کرنٹ لگاتار جسم میں جاتا رہتا ہے جس سے جسم کے پٹھے بالکل سخت ہو جاتے ہیں۔

اگر کبھی کسی کو کرنٹ لگ جائے تو گھبرانے کے بجائے فوری طور پر کچھ ضروری قدم اٹھانے چاہئیں۔ سب سے پہلا کام یہ کرنا چاہیے کہ گھر یا اس جگہ کا مین سوئچ فوراً بند کر دیں۔ مین سوئچ بند ہونے سے کرنٹ آنا رک جائے گا اور متاثرہ شخص مزید نقصان سے بچ سکتا ہے۔

اگر سوئچ دور ہو تو کسی بڑے سوکھے ڈنڈے کو تار پر مار کر اسے توڑ دیں یا الگ کر کے دور کر دیں۔ یاد رکھیں کہ کسی گیلی چیز سے تار کو ہرگز نہ چھوئیں اور نہ ہی ننگے پاؤں یہ کام کریں، ورنہ آپ خود بھی کرنٹ کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جس انسان کو کرنٹ لگ رہا ہو، اسے فوراً اس جگہ سے دور کریں۔ ایسا کرنے سے کرنٹ جسم کو چھوڑ دیتا ہے، لیکن اپنی حفاظت کو بھی یقینی بنائیں اور اس بات کا دھیان رکھیں کہ آپ خود اس چیز کو نہ چھوئیں جس میں کرنٹ ہے۔

تیسرا طریقہ یہ ہے کہ کرنٹ سے چھڑانے کے بعد متاثرہ شخص کی دھڑکن اور سانس چیک کریں۔ اگر سانس رک رہی ہو تو اس کے سینے کو دونوں ہاتھوں سے دباؤ دیں اور ضرورت پڑے تو منہ سے سانس دیں جسے سی پی آر کہا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی مریض کی ہتھیلیوں اور پیروں کے تلووں کو تیزی سے رگڑنا شروع کریں تاکہ جسم میں خون کی گردش بحال ہو، دل اپنی عام رفتار پر آ جائے اور جان بچائی جا سکے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ جس شخص کو کرنٹ لگا ہو، اسے پانی سے بالکل دور رکھیں اور جتنا جلدی ہو سکے علاج کے لیے ہسپتال لے کر جائیں، چاہے وہ بظاہر ٹھیک ہی کیوں نہ لگ رہا ہو۔ بعض اوقات اندرونی چوٹیں یا دل کی بے ترتیبی بعد میں بھی سامنے آ سکتی ہے۔

اگر کرنٹ لگنے کے بعد انسان بالکل ٹھیک محسوس کر رہا ہو لیکن جسم پر جلنے کا نشان ہو یا جلن ہو رہی ہو تو اس جگہ پر برف یا ٹھنڈی ٹکور کریں، تاہم مکمل طبی معائنہ ضروری ہے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی سے متعلق حادثات میں ابتدائی چند منٹ انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ بروقت احتیاط اور فوری طبی امداد سے کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

Read Entire Article