ARTICLE AD BOX
شائع 14 جولائ 2026 12:32pm
کراچی کے علاقے کلفٹن تین تلوار کے پاس ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش کے قتل کا انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد اب پولیس اور تفتیشی اداروں کی ٹیمیں قاتلوں کو پکڑنے کے لیے پوری طرح متحرک ہو گئی ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں بنا دی گئی ہیں اور اس سلسلے میں ایک ٹیم کارروائی کے لیے اندرون سندھ بھی روانہ کر دی گئی ہے۔
اس لرزہ خیز واردات کو انجام دینے والے ڈاکوؤں کے گینگ کے بارے میں اہم معلومات ملی ہیں اور پولیس ذرائع کے مطابق اس گینگ میں ایک خاتون کی موجودگی کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔
مقتول ڈاکٹر آکاش کی آخری رسومات کے لیے کلفٹن میں رحمت شیریں کے پاس سے جلوس کی شکل میں لوگ روانہ ہوں گے اور ان کی آخری رسومات گارڈن کے علاقے میں واقع شمشان گھاٹ میں ادا کی جائیں گی۔
دوسری طرف، تین تلوار کے قریب ڈاکٹر آکاش کی گاڑی پر فائرنگ کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے۔ اس ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک لٹیرا بھاگتا ہوا گاڑی کے قریب آیا اور اس نے پہلے وہاں موجود گارڈ پر فائرنگ کی، جس کے بعد اس نے جلدی سے کار کا دروازہ کھول کر پیسوں سے بھرا ہوا ایک بیگ اٹھا لیا۔
ملزم نے ہڑبڑاہٹ میں ایک ہی بیگ اٹھایا جبکہ دوسرا بیگ خود مقتول کے ہاتھ میں تھا، جس پر ڈاکو نے ڈاکٹر آکاش کو گولی مار دی اور فائرنگ ہوتے ہی وہاں اردگرد کے لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔
ڈاکٹر آکاش کے چچا کھیم چند نے اس بھیانک واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جس وقت یہ فائرنگ ہوئی، اس وقت گاڑی میں ڈاکٹر آکاش کے ساتھ ان کے والد اور کزن بھی موجود تھے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بینک کے باہر سب کے سامنے دن دہاڑے فائرنگ کر کے میرے معصوم بھتیجے کو قتل کر دیا گیا، ہمارا تعلق ایک کاروباری خاندان سے ہے اور ہم ملک کے نامور صنعت کار ہیں۔
انہوں نے حکومت پر غصہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے ہمارے بچوں کو سرعام قتل کیا جا رہا ہے، وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو اس سنگین واقعے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔
مقتول کے چچا کھیم چند نے غمگین اور مایوس کن لہجے میں مزید کہا کہ اگر اس طرح سڑکوں پر ہمارے پڑھے لکھے اور قابل لوگوں کو مارا جائے گا تو پھر کون سا نوجوان یہاں پاکستان میں رہنا پسند کرے گا۔
انہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ اٹھائیس سالہ ڈاکٹر آکاش ابھی غیر شادی شدہ تھے اور وہ پچھلے دو سال سے جناح اسپتال کراچی میں بطور ڈاکٹر ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے، لیکن ڈاکوؤں نے ان کی زندگی کا چراغ ہمیشہ کے لیے گل کر دیا۔
.png)
10 hours ago
2







English (US) ·