ARTICLE AD BOX
شہر کے مختلف مقامات سے ملنے والی لاشوں کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ہلاکتیں شدید گرمی اور لو لگنے کے باعث ہوئی ہیں۔
کراچی میں گرمی کی لہر انسانی جانیں نگلنے لگی، مختلف علاقوں سے آج مزید 8 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں، جس کے بعد 2 روز میں قیامت خیز گرمی سے اموات کی تعداد 14 ہوگئیں۔
چھیپا اور ریسکیو ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف مقامات سے ملنے والی ان لاشوں کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ہلاکتیں شدید گرمی اور لو لگنے کے باعث ہوئی ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق شدید گرمی سے جاں بحق ہونے والوں میں کلفٹن بوٹ بیسن سپر مارکیٹ کے قریب سے ایک 60 سالہ شخص کی لاش ملی، لیاقت آباد نمبر 10 پل کے نیچے سے 50 سالہ شخص مردہ حالت میں پایا گیا جب کہ سپر ہائی وے جمالی پل، شیل پمپ کے قریب سے 45 سالہ شخص کی لاش برآمد ہوئی۔
ادھر سرجانی ٹاؤن اسکیم 33 کے قریب سے ملنے والی لاش کی شناخت 50 سالہ در محمد ولد بابر نواز کے نام سے ہوئی جب کہ بلدیہ ٹاؤن اسپارکو روڈ، طیبہ مسجد کے قریب سے 55 سالہ عبدالودود ولد علی کی لاش ملی۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ دیگر لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور ضابطے کی کارروائی کے بعد انہیں سرد خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب کراچی میں آج شدید گرمی نے شہریوں کو نڈھال کر دیا، جہاں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جب کہ گرم اور خشک ہواؤں کے باعث شہر میں لو جیسی کیفیت محسوس کی گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گرمی کی شدت 40 ڈگری تک محسوس کی گئی اور ہوا میں نمی کا تناسب انتہائی کم رہا، جس کے باعث موسم مزید خشک ہو گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز درجہ حرارت 40.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
چیف میٹرولوجسٹ انجم نذیر ضیغم کا کہنا ہے کہ کل سے درجہ حرارت میں کمی کا امکان ہے اور پارہ 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہ سکتا ہے تاہم کراچی میں بارش کا کوئی امکان نہیں لیکن 7 مئی سے سندھ میں ایک اور ہیٹ ویو کا امکان ہے، جس کے اثرات کے باعث 13 مئی کے بعد کراچی میں دوبارہ درجہ حرارت بڑھ سکتا ہے۔
طبی ماہرین کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے ٹھنڈے پانی اور مشروبات کا زیادہ استعمال کریں۔
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·