Times of Pakistan

کراچی: لٹھ بستی کا سمندر جانوروں کے فضلے سے آلودگی کا شکار

1 day ago 2
ARTICLE AD BOX

بھینس کالونی کےلگ بھگ 1600باڑوں سےیومیہ بنیاد پرہزاروں ٹن گوبربغیرکسی ٹریٹمنٹ کے براہ راست سمندر میں شامل ہورہا ہے

شہرکےساحلی علاقےلٹھ بستی کا سمندرجانوروں کے1600کےقریب باڑوں سےنکلنےوالےگوبرکی وجہ سےبدترین آلودگی کا شکارہوگیا۔گوبرکےساتھ باڑوں سےسمندربرد ہونے والےسرنجوں اوردیگرطبی فضلے کی وجہ سےمعاملے کی سنگینی مذید بڑھتی جارہی ہے،مذکورہ معاملے کی وجہ سےلٹھ بستی کےعلاوہ چشمہ گوٹھ،ابراہیم حیدری،ریڑھی گوٹھ کے ساحلی علاقے بھی شدید متاثرہورہے ہیں۔

شہرکے ساحلی علاقےلٹھ بستی میں سمندری آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔مقامی ماہی گیروں نے انکشاف کیا ہے کہ بھینس کالونی کےلگ بھگ 1600باڑوں سےیومیہ بنیاد پرہزاروں ٹن گوبربغیرکسی ٹریٹمنٹ کے براہ راست سمندر میں شامل ہورہا ہے۔

ماہی گیروں کےمطابق سمندری ماحول کےلیےانتہائی مضرگوبرکےعلاوہ بھینسوں کے دودھ کی فراوانی کےلیےلگائے جانےوالی انجکشن کی خالی بوتلیں،سرنجوں سمیت دیگرطبی فضلہ بھی سمندرمیں بہہ کرشامل ہورہا ہے،یہ صورتحال آبی حیات کےلیےتباہ کن ہے بلکہ انسانی صحت کےلیے بھی سنگین خطرہ بن چکا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مچھلی کےشکارکےدوران یہ آلودہ اشیاءکوچھونے کی وجہ سےماہی گیروں کوبھی ہیپاٹائٹس سمیت کئی بیماریاں لگنےکا اندیشہ ہے۔

مقامی ماہی گیروں کا کہناہے کہ دودہائی پہلےلٹھ بستی کا سمندرانتہائی صاف وشفاف تھاجہاں کنارےسے ہی وافر مقدار میں شکارملتاتھامگرآلودگی کےباعث بتدریج تباہی کےدہانےپرپہنچنے کےبعد کنارے پرمچھلی کا شکارقصہ پارینہ بن چکا ہے۔ماضی میں لٹھ بستی کےقرب وجوارسےٹنوں کےحساب سےمچھلی پکڑی جاتی تھی،مگراب حالت یہ کہ میلوں دورتک مچھلی اوردیگرآبی حیات کا نام ونشان نہیں ملتا۔

لٹھ بستی کےسیاسی وسماجی رہنما سردارعزیزداؤدجت کا کہناہے کہ غلط پالیسیوں کےباعث بھینس کالونی کا گوبر بلا روک ٹوک سمندرمیں چھوڑاجارہا ہے۔جس سےنہ صرف لٹھ بستی بلکہ چشمہ گوٹھ،ابراہیم حیدری،ریڑھی گوٹھ کےساحل بھی آلودہ ہوچکےہیں۔

علاقے کےایک اورسماجی رہنما غلام مصطفی جٹ نے حکومت سندھ اور ابراہیم حیدری ٹاؤن انتظامیہ سےمطالبہ کیا کہ آلودگی کا سبب بننے والےاس زہرقاتل کوفوری طورپرروکا جائے کیونکہ شدید تعفن کی وجہ سےخطرناک فضلےکی وجہ سےماہی گیراورخاندان مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہےہیں۔

پاکستان فشرفوک فورم کےچیئرمین مہران علی شاہ نےمذکورہ معاملے تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ سمندرماہی گیروں کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ ہے،جسے آلودگی سےبچاناہرفرد کی ذمہ داری ہے،دنیا بھرمیں جن ممالک کے پاس سمندرہیں ان کا شمارخوش قسمت ترین ریاستوں میں ہوتاہےمگرہمارے یہاں بدقسمتی سےسمندرکوکوڑا دان سمجھ لیاگیا ہےکہ ہرقسم کا فضلہ سمندرمیں جھونک دیا جاتاہے۔

انھوں نےمطالبہ کیا کہ بھینس کالونی سےسمندر میں گرنے والے گوبراورفضلے کےخلاف فوری ایکشن لیا جائے اور متبادل نکاسی کا مؤثرنظام قائم کیا جائے۔

کوسٹل میڈیا سینٹرکےصدرکمال شاہ نےکہا کہ کراچی کی ساحلی پٹیوں کی فوری صفائی،غیرقانونی سیوریج نالوں کی بندش اورویسٹ مینجمنٹ کامؤثرنظام موجودہ صورتحال کےدوران وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نےحکومت سندھ، منتخب نمائندوں اورمتعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ اس سنگین مسئلے پرعملی اقدامات کیےجائیں تاکہ سمندری حیات، انسانی صحت اورماہی گیروں کےروزگارکو بچایاجا سکے،وگرنہ سمندری ماحولیاتی نظام ایک ناقابل تلافی نقصان سے دوچارہوجائےگا۔

Read Entire Article