ARTICLE AD BOX
اس تنازع پر سونم وانگچُک نے بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر کامیابی کے ساتھ عاجزی، احترام اور ذمہ داری کا مظاہرہ بھی ضروری ہے۔
شائع 28 جولائ 2026 11:22am
نیٹ - یو جی پیپر لیک معاملے پر جاری احتجاج کے بعد وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو اپنی بڑی کامیابی قرار دینے والی کاکروچ جنتا پارٹی اب ایک نئے تنازع کی زد میں آ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر پارٹی رہنماؤں کی جشن مناتے ہوئے ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد ان پر احتجاجی کارکنوں کو نظر انداز کرنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سیاسی مبصر اور یوٹیوبر میگھ ناد ایس نے انسٹاگرام پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی کی قیادت وزیر تعلیم کے استعفے کے بعد جشن منانے میں مصروف ہو گئی، جبکہ جنتر منتر پر کئی طلبہ اور رضاکار خوراک، رہائش اور واپسی کے انتظامات کے بغیر رہ گئے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک ماہ تک احتجاج کو جاری رکھنے والے متعدد رضاکار قیادت کے وہاں سے جانے کے بعد بے یار و مددگار رہ گئے۔ ان کے مطابق وہ اور چند دیگر افراد اپنی جیب سے اخراجات برداشت کرکے کئی مظاہرین کو ان کے گھروں تک واپس بھیجنے میں مدد کرتے رہے۔
میگھ ناد کا کہنا تھا کہ جب پارٹی رہنما جمہوریت کی بحالی کا جشن منا رہے تھے، اسی وقت 70 سے زائد طلبہ اور مظاہرین دہلی میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے پھنسے ہوئے مظاہرین کو تتکال ٹرین ٹکٹ، رہائش اور دیگر سہولیات کے حوالے سے بھی معلومات فراہم کیں۔
اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی۔ بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ ایک ماہ تک احتجاج میں شریک رہنے والے کارکنوں کے ساتھ مناسب رویہ کیوں اختیار نہیں کیا گیا۔
اسی دوران احتجاج کے دوران مظاہرین کے لیے کھانے کا انتظام کرنے والے رضاکار جُنید کے بیانات بھی سامنے آئے۔ جنید نے دعویٰ کیا کہ احتجاج ختم ہونے کے بعد پارٹی قیادت نے اس سے مناسب انداز میں ملاقات تک نہیں کی، جس پر سوشل میڈیا پر کئی افراد نے قیادت کے رویے پر تنقید کی۔
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وائرل ویڈیوز کو غلط تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔
پارٹی کے ترجمان سورَو داس نے کہا کہ یہ کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں منعقد ہونے والی پارٹی نہیں تھی بلکہ ایک سادہ تقریب تھی، جس کا مقصد تقریباً 150 سے 200 رضاکاروں کا شکریہ ادا کرنا تھا۔ ان کے مطابق ان رضاکاروں میں سے نصف سے زیادہ دوسرے شہروں سے آئے تھے اور مسلسل 37 روز تک احتجاج کا حصہ رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ تقریب کے دوران رضاکاروں سے انفرادی ملاقاتیں بھی کی گئیں اور ان کی خدمات کو سراہا گیا، تاہم صرف رقص کی ویڈیوز سامنے آنے کی وجہ سے غلط تاثر پیدا ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی رہنما ہر وقت اسٹیج پر نظر نہ آئے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دیگر انتظامی امور نہیں دیکھ رہا تھا۔
اسی تنازع پر معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر کامیابی کے ساتھ عاجزی بھی ہونی چاہیے اور فتح کا جشن وقار، تحمل اور ذمہ داری کے ساتھ منایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق کامیابی حاصل کرنا اہم ضرور ہے، لیکن اس کے بعد احترام اور انکساری کو برقرار رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ سونم وانگچک اس احتجاجی تحریک کی نمایاں شخصیات میں شامل رہے۔ انہوں نے جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال بھی کی تھی، جسے بعد میں پولیس کی مداخلت کے بعد ختم کیا گیا۔
ادھر سوشل میڈیا پر بعض ناقدین نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ یہ تحریک نیٹ-یو جی پیپر لیک اور اس سے متاثرہ طلبہ کے لیے چلائی گئی تھی، اس لیے جشن کی ویڈیوز نے کئی لوگوں کو مایوس کیا۔ کچھ صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مختلف ریاستوں میں کئی مظاہرین کو اب بھی قانونی کارروائیوں اور گرفتاریوں کا سامنا ہے، ایسے میں جشن منانا مناسب نہیں تھا۔
دوسری جانب پارٹی ترجمان سورَو داس نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ نئی نسل احتجاج اور خوشی کے اظہار، دونوں انداز ایک ساتھ اپنا سکتی ہے۔ ان کے مطابق نوجوان نسل روایتی سیاسی انداز سے مختلف ہے اور اسی لیے اس کے طریقہ کار کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی نے گزشتہ ماہ نیٹ-یو جی پیپر لیک کے خلاف اپنی مہم کا آغاز سوشل میڈیا سے کیا تھا، جو بعد ازاں جنتر منتر پر دھرنے، سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال اور ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہروں تک پھیل گئی۔ پارٹی کا بنیادی مطالبہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا تھا، جو پورا ہونے کے بعد اب تنظیم کی قیادت کے طرزِ عمل، جوابدہی اور احتجاج کے اختتام پر رضاکاروں کے ساتھ رویے پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
.png)
3 hours ago
2






English (US) ·