Times of Pakistan

چالیس سال کا خراج اور 7 فی صد کا کفن

6 hours ago 1
ARTICLE AD BOX

بجٹ پر بحث جاری ہے۔ ایوان اقتدار کی گیلریوں میں تالیاں بجائی جا رہی ہیں۔ سرکاری ملازمین کے دھرنے اور احتجاج رنگ لے آئے ہیں اور ان کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں۔ اسی دوران کئی پنشنرز میسج کے ذریعے بتا رہے تھے کہ حکومت نے صرف 7 فی صد پنشن میں اضافہ کرکے ان کی پنشن میں انتہائی معمولی رقم کا اضافہ کیا ہے۔ 40 برس اس وطن کی مٹی کو اپنے سپنوں سے سنوارا۔ 4 دہائی کوئی معمولی مدت نہیں ہوتی جس میں وہ صرف گھر اور دفتر کا ہو کر رہ گیا تھا۔

یہ وہ عمر ہوتی ہے جس میں وہ اپنی بینائی، جسمانی قوت، اپنے خواب، اپنے بچوں کی خواہشیں سب کچھ ریاست کے دفاتر کی نذر کر دیتا ہے۔ اس امید پر کہ جب اس کے ہاتھ کانپیں گے، تو ریاست ایک لاٹھی کی مانند اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ آج ایک ریٹائرڈ، کمزور، بیمار پنشنر کی صبح کی ابتدا دواؤں کے خالی پتوں سے ہوتی ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ جس نے 40 برس اس نظام کو اپنے کندھوں پر چلایا۔ آج بڑھاپے میں اسے صرف 7 فی صد پر ٹرخا دیا گیا۔ اتنے میں مرنے کے بعد اس کا کفن بھی نہیں آئے گا۔

تجہیز و تکفین کے اخراجات پورے نہ ہوں گے۔بڑھاپے میں جب دوا کے پیسے کم پڑ جائیں، جب پیٹ کو پورا کھانا نہ ملے، جب عید پر بھی نئے کپڑے نہ سلیں، جب کمر جھکنے لگے، جب بال جھڑنے لگیں، جب دانت گرنے لگیں، جب نظر کم آنے لگے، جب سنائی کم دینے لگے تو سمجھ جاتا ہے کہ 40 برسوں کا پھل حکومت کی طرف سے اب ملنے والا ہے اور بجٹ میں انتظار کرتا ہے کہ کم از کم مہنگائی کے تناسب سے پنشن میں اضافہ ہوگا، لیکن وزیر اعظم صاحب صرف 7 فی صد کا اضافہ، اس مہنگائی کے دور میں، جب ادویات، کرایہ جات، ٹرانسپورٹ اخراجات، خوراک کے اخراجات اتنے زیادہ بڑھ جائیں کہ 10 سے 15 یوم بھی نہ گزریں، کیا یہ معمولی اضافہ انصاف ہے؟

وزیر اعظم صاحب برائے مہربانی آگے بڑھیں، اس ناانصافی کا نوٹس لیں۔ حکومت وقت نے یہ انتہائی احسن اور قابل مبارک قدم اٹھایا کہ حاضر سروس سرکاری ملازمین کے مطالبات میں سے زیادہ تر باتوں کو تسلیم کر لیا ہے جس کے وہ حقیقی مستحق ہیں لیکن ایسے موقع پر حکومت کی طرف سے پنشنرز کو نظرانداز کر دینا یہ پنشنرز کے زخموں کو تازہ کرتا ہے۔ حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ زخموں پر مرہم رکھے، بڑھایا بذات خود ایک ایسی بیماری کا نام ہے جس میں ایک شخص کے اندر کمزوری کوٹ کوٹ کر بھر جاتی ہے۔ آنکھوں کی روشنی مدھم پڑ جاتی ہے، نہ کہیں ملازمت ملتی ہے، نہ کہیں روزگار کا بندوبست ہوتا ہے۔

انھیں جو بھی رقم ملتی ہے سیدھا بازار جا کر جیب خالی کرکے آ جاتے ہیں، اگر اس اضافے کو دگنا سے زائد کر دیا جائے تو ایسی صورت میں حکومت کو اپنے معاشی اہداف پورے کرنا آسان ہو جائیں گے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اس نے 4.2 فی صد کی شرح افزائش حاصل کرنی ہے اور صنعتی ترقی کی خواہاں بھی ہے۔ صنعتی پیداوار میں اضافے کے جتن کر رہی ہے، اگر پنشنرز کی پنشن میں محض دگنا سے زیادہ اضافہ کر دیا جائے تو وہ پیسہ فوراً مارکیٹ میں گردش کرنے لگتا ہے، جس سے طلب بڑھتی ہے، کارخانوں کے پہیے تیز چلنے لگتے ہیں اور معاشی ترقی کا جو ہدف طے کیا گیا ہے اس کے حصول میں آسانی ہوگی۔ اس مرتبہ معاشی نمو کا ہدف 4.2 فی صد مقرر کیا ہے جب کہ شرح نمو 2.7 فی صد رہی تھی ایسے میں بھی ضروری ہے کہ پنشن میں مزید اضافہ کیا جائے ورنہ 2.7 فی صد سے کم کی شرح حاصل ہوگی۔

حکومت نے مہنگائی کی شرح 8.2 فی صد تک محدود کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط مزید پوری کرنی ہے اور کئی سال تک آئی ایم ایف اور ہمارا ساتھ رہے گا، لہٰذا مہنگائی تو بڑھتی رہے گی۔ برآمدات کے ہدف تک کیسے پہنچ سکتے ہیں کیونکہ پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے۔ دنیا میں کساد بازاری چھا چکی ہے۔ عالمی منڈی میں سخت ترین مقابلہ کیسے کریں گے؟ لہٰذا کچھ پیداوار کو ملک میں کھپانے کے لیے ضروری ہے کہ پنشن میں اضافہ کیا جائے تاکہ کارخانے رواں دواں رہیں اور ٹیکس بھی ملتا رہے۔ پاکستان کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے جس سے ترقیاتی اخراجات محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ تعلیم اور صحت کے لیے کم وسائل بچتے ہیں، عام آدمی کے لیے بجٹ میں مہنگائی ہی مہنگائی ہے۔ حکومت نے بہت سی اشیا پر ٹیکس عائد کر دیا ہے۔

دراصل یہ بجٹ انتہائی محتاط اور آئی ایم ایف سے ہم آہنگ بجٹ ہے، لہٰذا اس کی خوبیاں کم ہو سکتی ہیں اور خامیاں، مشکلات، مسائل زیادہ جنم لیں گے۔ بہرحال اس میں جو بھی اہداف مقرر کیے گئے ہیں ان کے حصول کے لیے بڑی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ زراعت پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ بھارت پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں کا رخ موڑتا چلا جا رہا ہے، پانی کے جو منصوبے تاحال مکمل نہیں ہوئے ان کو ہدف کے مطابق مکمل کرنا ہوگا۔ کراچی کے پانی کا منصوبہ ایک طویل عرصے سے چل رہا ہے اسے جلد ازجلد مکمل کرنا ضروری ہے۔ کسان کی آمدنی بڑھانے کے اب تک صرف دعوے کیے گئے ہیں۔

اب ان پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ حکومت صنعتی ترقی کرنے کی خواہش رکھتی ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری لائی جائے لیکن بیرون ملک کا سرمایہ کار ہو یا ملکی سرمایہ کار، کئی امور کو پیش نظر رکھتا ہے۔ ان میں اول امن و امان کا ہونا ہے، روزگار کی فراہمی کے بغیر شرح نمو میں اضافہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے ساتھ ٹیکس کے شعبے میں جس طرح سے رشوت کام دکھا رہی ہے اس کا قلع قمع کرنا کچھ مشکل کام تو نہیں۔ حکومت کو اب اس طرح کے مشکل اہداف کو طے کرنا ہوگا تاکہ ٹیکس کی رقم میں اضافہ کیا جاسکے۔ صرف بجٹ پیش کرنا کافی نہیں اگر کوئی خامی ہو تو اس کی تلافی ضروری ہے تاکہ بجٹ کے جو اہداف طے کیے گئے ہیں ان کے حصول کے لیے ہر ممکن کامیاب ترین کوششیں کی جائیں اور سرکاری پنشنرز کم ازکم گریڈ ون تا سترہ تک کے پنشن میں 7 گنا سے زیادہ اضافہ کیا جائے تاکہ معیشت کا پہیہ متحرک کیا جاسکے۔

Read Entire Article