Times of Pakistan

پنجاب تقسیم ہو سکتا ہے تو سندھ کیوں نہیں؟ پورے ملک میں صوبے بڑھنے چاہئیں: خالد مقبول صدیقی

2 weeks ago 8
ARTICLE AD BOX

کراچی سے متعلق معاہدے پربلاول بھتو کے بھی دستخط ہیں، کنوینئر ایم کیو ایم پاکستان کی آج نیوز کے پروگرام میں گفتگو

شائع 24 فروری 2026 11:26pm

خالد مقبول صدیقی نے آج نیوز کے پروگرام ’’نیوز انسائیٹ ود عامر ضیا‘‘ میں کہا کہ پورے ملک میں صوبے بڑھنے چاہئیں، سندھ کی تقسیم کو غداری قرار دینا بڑی غلطی ہے اور فیصلے میرٹ پر ہونے چاہئیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کنوینئر خالد مقبول صدیقی نے آج نیوز کے پروگرام ”نیوز انسائیٹ وِد عامر ضیا“ میں ملک میں صوبوں کی تقسیم اور انتظامی اصلاحات پر اپنا موقف پیش کیا۔

انہوں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب تقسیم ہو سکتا ہے تو سندھ کیوں نہیں، پورے ملک میں صوبے بڑھنے چاہئیں اور صوبے کی تقسیم کو غداری قرار دینا ایک بڑی غلطی ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ کراچی سے متعلق معاہدے پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے دستخط بھی موجود ہیں، جب کہ مولانا فضل الرحمان سمیت پوری قیادت کے دستخط بھی شامل ہیں، اس لیے یہ کوئی یک طرفہ فیصلہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے میرٹ پر ہونے چاہئیں تاکہ ملک میں شفافیت برقرار رہے۔

انہوں نے پاکستان کی تاریخ اور صنعتی ترقی کے حوالے سے گفتگو میں کہا کہ ہم پاکستان کی بات 1947 سے کریں گے، پانچ ہزار سال پرانے معاملات پر نہیں۔ صنعتیں پاکستان کے قیام کے بعد لگی ہیں اور یہ ملک کی ترقی کا حصہ ہیں۔ 2013 میں ان کی جماعت اکثریت سے منتخب ہوئی تھی جب کہ اس وقت ایم کیوایم حکومت میں شامل نہیں تھی۔

خالد مقبول صدیقی نے 26 ویں آئینی ترمیم کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے اس میں 140 اے کی مانگ کی تھی، جو صرف ان کی ضرورت نہیں بلکہ پورے ملک میں انتظامی اصلاحات کے لیے اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کے فیصلے ملک کے مفاد میں ہونے چاہئیں۔

صدیقی کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ سندھ سمیت ملک کے دیگر صوبوں میں انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کے قیام کے لیے سیاسی مکالمہ جاری رہنے کا امکان ہے، اور یہ بحث ملک کی جغرافیائی و سیاسی حیثیت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

Read Entire Article