ARTICLE AD BOX
پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر فراخدلانہ ردعمل علاقائی امن، استحکام اور مفاہمت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں مجوزہ آپریشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر روکنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بروقت اور مثبت اقدام قرار دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اس جرات مندانہ فیصلے پر ان کے شکر گزار ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام ایک نہایت حساس وقت میں سامنے آیا ہے اور اس سے خطے میں امن، استحکام اور مفاہمت کے فروغ میں مدد ملے گی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان اور دیگر برادر ممالک، بالخصوص مملکتِ سعودی عرب اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی درخواست پر مثبت ردعمل دیا، جو قابلِ تحسین ہے اور اس سے کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتا رہے گا جو تحمل، مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پُرامن حل کو فروغ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ پیش رفت ایک دیرپا معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنائے گی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان نے ثالث کا کردار ادا کیا ہے اور حالیہ بات چیت اسلام آباد میں بھی ہوئی ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بھی امریکی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے تجربات کو دہرانے والا پچھتاوے سے نہیں بچ سکتا، انہوں نے اس موقع پر انگریزی کہاوت “Once Beaten, Twice Shy” کا حوالہ بھی دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق آپریشن روکنے کا فیصلہ پاکستان کی درخواست پر کیا گیا، جو امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں ثالثی کر رہا ہے۔
.png)
53 minutes ago
1





English (US) ·