ARTICLE AD BOX
سینٹرل کنٹریکٹس کے لیے رائج اے، بی، سی اور ڈی کیٹیگریز پر مشتمل پرانا ماڈل ختم کردیا جائے گا: پی سی بی حکام
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے 2026 سے نئے فریم ورک کے نفاذ کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کا مقصد میرٹ، شفافیت اور کارکردگی کو بنیاد بنا کر قومی کرکٹ کے معیار کو مزید بہتر بنانا ہے۔
پی سی بی کے مطابق 2026 سے سینٹرل کنٹریکٹس کے لیے رائج اے، بی، سی اور ڈی کیٹیگریز پر مشتمل پرانا ماڈل ختم کردیا جائے گا، جبکہ کھلاڑیوں کی درجہ بندی ان کی کارکردگی، دستیابی اور مختلف فارمیٹس میں کردار کی بنیاد پر کی جائے گی۔
نئے فریم ورک میں ٹیسٹ کرکٹ کے تحفظ اور فروغ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ اس مقصد کے تحت ریڈ بال کرکٹ اور ٹیسٹ اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کے لیے الگ ترقیاتی راستہ متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ طویل فارمیٹ کے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
پی سی بی کا کہنا ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹس کے نظام میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے کھلاڑیوں کے لیے واضح، منظم اور قابلِ فہم ترقی کا راستہ متعارف کرایا جائے گا۔ اس کے علاوہ کارکردگی کی بنیاد پر اضافی انعامات اور مراعات بھی دی جائیں گی تاکہ کھلاڑی بہتر نتائج دینے کے لیے مزید متحرک ہوں۔
نئے فریم ورک کے تحت سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت لازمی قرار دی جائے گی، جس کا مقصد قومی ٹیم اور ڈومیسٹک کرکٹ کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا اور مقامی سطح پر کرکٹ کے معیار کو بلند کرنا ہے۔
پی سی بی نے مزید بتایا کہ نئے نظام میں پانچ مختلف فارمیٹ ٹریکس متعارف کرانے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ فرنچائز کرکٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کے لیے بھی الگ درجہ بندی کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔ کھلاڑیوں کی دستیابی کو بھی درجہ بندی کے عمل میں ایک اہم عنصر کے طور پر شامل کیا جائے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق 2026 کے سینٹرل کنٹریکٹس نئے قواعد و ضوابط کے تحت دیے جائیں گے اور توقع ہے کہ یہ جدید فریم ورک قومی کرکٹ کے ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے کھلاڑیوں کے لیے بھی بہتر مواقع فراہم کرے گا۔
.png)
1 hour ago
2




English (US) ·