Times of Pakistan

ٹیوشن حادثہ: صدمے میں مبتلا ماں کو بچوں کا انتظار، ٹیچر کی اپنی بیٹی بھی جاں بحق

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

قیامت خیز منظر دیکھنے والے بچوں کے دل دہل گئے، زخمی ٹیچر نے اسپتال سے اپنا دکھ سنا دیا

شائع 02 جولائ 2026 08:56am

لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا دلدوز واقعہ دس گھرانوں کو ہمیشہ کے لیے برباد کر گیا ہے۔ اس حادثے میں چودہ معصوم بچوں کی جان چلی گئی ہے، جس کے بعد پورے علاقے کی فضا سوگوار ہے اور ہر طرف آہیں اور سسکیاں سنائی دے رہی ہیں۔

جاں بحق ہونے والے زیادہ تر بچوں کی عمریں پانچ سے نو سال کے درمیان تھیں، جنہیں نمازِ جنازہ کے بعد نم آنکھوں کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ اس قیامت خیز منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے جو بچے خوش قسمتی سے بچ گئے ہیں، وہ اور ان کے والدین شدید خوف اور صدمے کی حالت میں ہیں۔

اس حادثے میں اپنے تین جگر گوشوں عبداللہ، عروج اور ایمان فاطمہ کو کھو دینے والے اور چوتھے بیٹے مرتضیٰ کے زخمی ہونے پر غم سے نڈھال والد مصطفیٰ نے روتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے بہت سے خواب دیکھے تھے، لیکن اس قاتل چھت نے ان کا سب کچھ اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔

مصطفیٰ نے بتایا کہ بچوں کی ماں صدمے سے بے ہوش ہے اور اسے اب تک کچھ ہوش نہیں، وہ اب بھی اپنے شہزادے اور شہزادیوں کا انتظار کر رہی ہے۔

دوسری طرف، حادثے میں زخمی ہونے والی ٹیچر حمیدہ بی بی اس وقت جنرل اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جہاں انہوں نے اپنا دکھ بیان کرتے ہوئے کہا کہ مون سون کی بارشوں سے پہلے ہم گھر کی پرانی چھت کو پکا کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ وہ ٹپکے نہ، لیکن مالی تنگی کی وجہ سے نئی چھت ڈالنا ممکن نہیں تھا۔

زخمی ٹیچر کا مزید کہنا تھا کہ مستری صبح کا کام ختم کر کے چلے گئے تھے اور بچے روزانہ کی طرح سہ پہر تین بجے پڑھنے آئے تھے، یہ ایک اچانک ہونے والا قدرتی حادثہ تھا اور ہماری کوئی غلطی یا غفلت نہیں تھی، بلکہ اس سانحے میں میری اپنی بیٹی بھی جان کی بازی ہار گئی ہے جس کا درد میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔

پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ غفلت اور لاپرواہی کی دفعات کے تحت درج کر کے مرکزی ملزم ریحان کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ہے۔

ملزم ریحان نے پولیس کو بتایا ہے کہ بارش کی وجہ سے چھت ٹپکتی تھی، اسی لیے وہ اپنے بھائیوں اور مستری کے ساتھ مل کر چھت پر ٹائلیں لگا رہا تھا کہ اچانک وہ نیچے گر گئی، ہم اتنے غریب ہیں کہ نئی چھت نہیں بنوا سکتے تھے اور گھر چلانے کے لیے میری بیوی بچوں کو پڑھاتی تھی۔

اس بڑے حادثے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب نے متاثرہ خاندانوں کے لیے بڑے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت جان کی بازی ہارنے والے بچوں کے گھر والوں کو بیس بیس لاکھ روپے اور زخمیوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

اس کے ساتھ ہی ضلعی انتظامیہ بھی جاگ اٹھی ہے اور شہر کے تمام غیر قانونی ٹیوشن سینٹرز کو فوری بند کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے، جبکہ اگلے تین دنوں میں تمام اکیڈمیوں کا ریکارڈ اکٹھا کرنے اور گھروں کو بغیر اجازت کاروباری مقصد کے لیے استعمال کرنے والوں پر بھاری جرمانے لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Read Entire Article