ARTICLE AD BOX
امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے ایک ایسی قرارداد منظور کرلی ہے جس کے تحٹ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنا غیر قانونی ہوگا۔ یہ قرارداد، جو امریکی آئین کے مطابق فوج کو جنگ میں بھیجنے کا اختیار صرف کانگریس کو دینے کی وکالت کرتی ہے، سینیٹ میں 50 ووٹوں کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے منظور کی گئی۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، یہ ووٹنگ ایران جنگ پر امریکی صدر کی ناکامی کی واضح علامت سمجھی جا رہی ہے۔
اگرچہ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے ساتھیوں نے اس سال پہلے بھی اسی طرح کی سات کوششوں کو روکا تھا، لیکن اس بار چار ریپبلکن سینیٹرز نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ تین ریپبلکن اراکین ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے۔
صرف ایک ڈیموکریٹ سینیٹر، پنسلوانیا کے جان فیٹرمین نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔
اس قرارداد کے حامی امریکی قانون سازوں کا یہ دیرینہ مؤقف ہے کہ آئین کے تحت جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صدر نہیں بلکہ کانگریس کے پاس ہونا چاہیے۔
تاہم، یہ ایک طویل اور مشکل عمل کا آغاز ہے، کیونکہ اس قرارداد کو اب بھی ریپبلکن کی اکثریت والے ایوان نمائندگان یعنی کانگریس سے منظور ہونا پڑے گا، جہاں اس پر ووٹنگ اسی ہفتے متوقع ہے۔
اگر یہ قرارداد کانگریس سے بھی منظور ہو جاتی ہے، تو صدر ٹرمپ کے ممکنہ ویٹو کو غیر مؤثر کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی، جو فی الحال مشکل نظر آتا ہے۔
قرارداد کے اسپانسر، ورجینیا کے ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کین نے بحث کے دوران کہا کہ ”یہ جنگ سے پہلے بحث کرنے کا بہترین وقت ہے۔“
ان کا اشارہ صدر ٹرمپ کے اس بیان کی طرف تھا کہ تہران نے جنگ ختم کرنے کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی ہے۔
سینیٹر کین نے مزید کہا، ”صدر امن اور سفارتی تجاویز موصول کر رہے ہیں جنہیں وہ ہمارے ساتھ شیئر کیے بغیر ردی کی ٹوکری میں پھینک رہے ہیں۔“
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر متضاد بیانات دیے ہیں۔
ایک طرف انہوں نے ایران کو دھمکی دی کہ وہ کسی بھی وقت کارروائی کر سکتے ہیں، شاید ”دو یا تین دن، جمعہ یا ہفتہ یا پھر اگلے ہفتے کے شروع میں۔“
لیکن دوسری طرف وائٹ ہاؤس میں انہوں نے عوام کو یہ خبر بھی دی کہ وہ ایران جنگ کے جلد خاتمے کی طرف جا رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا، ”ان کے ذہن میں ہے کہ وہ (ایران) جوہری ہتھیار رکھ سکتے ہیں، لیکن ہم انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے۔“
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس جنگ نے نہ صرف امریکا بلکہ دنیا بھر کی معیشتوں کو نصف ٹریلین ڈالر کا جھٹکا دیا ہے۔
کانگریس کے اراکین کی بڑی تعداد اب یہ چاہتی ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کے لیے کانگریس سے پیشگی منظوری لی جائے، تاکہ امریکا کو کسی طویل اور واضح حکمت عملی کے بغیر کسی تنازعے میں نہ دھکیلا جا سکے۔
.png)
17 hours ago
3




English (US) ·