ARTICLE AD BOX
فاسٹ بولر باب بلیئر نے 1952 سے 1964 کے درمیان 19 ٹیسٹ میچز میں نیوزی لینڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے 43 وکٹیں حاصل کیں
نیوزی لینڈ کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور قومی ہیرو سمجھے جانے والے باب بلیئر 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کا اعلان نیوزی لینڈ کرکٹ نے بدھ کے روز کیا۔ فاسٹ بولر باب بلیئر نے 1952 سے 1964 کے درمیان 19 ٹیسٹ میچز میں نیوزی لینڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے 43 وکٹیں حاصل کیں، تاہم انہیں اپنی کرکٹ کارکردگی سے زیادہ 1953 کے جوہانسبرگ ٹیسٹ میں دکھائی گئی غیر معمولی ہمت اور حوصلے کے باعث یاد رکھا جاتا ہے۔ اس وقت 21 سالہ باب بلیئر کو میچ کے دوسرے روز علی الصبح اطلاع ملی تھی کہ ان کی منگیتر نیریسا لوو کرسمس کی شام نیوزی لینڈ کے شمالی جزیرے میں پیش آنے والے تانگی وائی ریل حادثے میں ہلاک ہونے والے 151 افراد میں شامل ہیں۔ شدید صدمے کے باعث بلیئر ابتدا میں ٹیم ہوٹل میں ہی رہے لیکن جب نیوزی لینڈ کی ٹیم آخری وکٹ پر مشکلات کا شکار ہوئی تو وہ میدان میں اتر آئے۔ انہوں نے زخمی بلے باز برٹ سٹکلف کا ساتھ دیا جو بیٹنگ کے دوران متعدد گیندیں لگنے کے باعث اسپتال بھی جا چکے تھے۔ 23 ہزار تماشائیوں پر مشتمل اسٹیڈیم میں اس موقع پر خاموشی چھا گئی جبکہ دونوں ٹیموں کے کئی کھلاڑی جذباتی ہو کر آبدیدہ بھی ہوئے۔ نیوزی لینڈ کی آخری وکٹ کی شراکت نے 33 رنز بنائے جن میں ایک اوور میں اُس وقت کے عالمی ریکارڈ 25 رنز بھی شامل تھے۔ بلیئر صرف 6 رنز بنا کر اسٹمپ آؤٹ ہوئے، تاہم میدان سے واپسی پر شائقین نے کھڑے ہو کر ان کا شاندار استقبال کیا۔ باب بلیئر کی اسی جرات اور حوصلے کی یاد میں "تانگی وائی شیلڈ" متعارف کرائی گئی جو 2024 میں نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا کے درمیان مینز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی قرار دی گئی۔ باب بلیئر نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آخری میچ 1964 میں آکلینڈ میں جنوبی افریقا کے خلاف کھیلا، جہاں انہوں نے 142 رنز کے عوض 7 وکٹیں حاصل کرکے اپنے بہترین ٹیسٹ اعداد و شمار ریکارڈ کیے۔ بعد ازاں وہ اپنی اہلیہ باربرا کے ساتھ انگلینڈ کے علاقے چیشائر میں آباد ہو گئے تھے۔ ان کے احترام میں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم جمعرات کو ناٹنگھم کے ٹرینٹ برج گراؤنڈ میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے پہلے روز سیاہ پٹیاں باندھ کر میدان میں اترے گی۔
.png)
8 hours ago
1




English (US) ·