ARTICLE AD BOX
ناروے کے ایک معروف اخبار نے نریندر مودی کا ایک ایسا کارٹون شائع کیا ہے جس پر دنیا بھر میں، خصوصاً سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا۔
اس کارٹون میں بھارتی وزیراعظم کو ایک سانپوں کے کرتب دکھانے والے جوگی کے روپ میں دکھایا گیا ہے، جس کے ہاتھ میں بین ہے اور سامنے ٹوکری میں فیولنگ پائپ ہے جو سانپ کی شکل کی ہے۔ یہ خاکہ ایک رائے عامہ کے مضمون کے ساتھ چھاپا گیا جس کا عنوان ”ایک شاطر اور تھوڑا پریشان کن آدمی“ تھا۔
اس کارٹون کے سامنے آتے ہی انٹرنیٹ پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پر اپنا ردِعمل دینا شروع کردیا۔ بہت سے صارفین کا کہنا ہے کہ یہ خاکہ پرانی اور روایتی مغربی سوچ کو ظاہر کرتا ہے، جس میں بھارت کو ماضی میں صرف جادوگروں اور سانپوں کا ملک سمجھا جاتا تھا۔
یہ سارا تنازع اس وقت شروع ہوا جب وزیراعظم مودی ناروے کے سرکاری دورے پر تھے اور وہاں ایک پریس بریفنگ کے دوران ناروے کی ایک صحافی ہیلے لنگ نے ان سے ایک چبھتا ہوا سوال کیا۔
صحافی نے پوچھا کہ بھارتی وزیراعظم کھلے عام میڈیا کے سوالات کا جواب کیوں نہیں دیتے اور انہوں نے بھارت میں پریس کی آزادی اور انسانی حقوق پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اگرچہ اس وقت دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا، لیکن صحافی نے اس واقعے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر شیئر کر دی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔
کارٹون میں مبینہ طور پر وزیرِاعظم مودی کو ایک ایسے شخص کے طور پر دکھایا گیا جو بِین اور سامنے ٹوکری میں سانپ جیسی شکل والی پٹرول پائپ ہے، جسے کئی لوگوں نے پرانی نوآبادیاتی سوچ اور ہندوستان سے منسلک دقیانوسی تصورات کی عکاسی قرار دیا۔ اسی اخبار میں شائع ایک مضمون کا عنوان بھی اس تنازع کا حصہ بنا، جس میں مودی کو ”شاطرمگر قدرے پریشان شخص“ کہا گیا تھا۔
اس تنازع کے دوران بھارت کی وزارتِ خارجہ کے سینئر اہلکار سبی جارج نے بھی ردعمل دیتے ہوئے بھارت کے جمہوری نظام اور میڈیا کے وسیع دائرے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں مختلف زبانوں میں سینکڑوں ٹی وی چینلز اور روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں خبریں نشر ہوتی ہیں، اس لیے ملک کی صورتِ حال کو محدود رپورٹوں کی بنیاد پر نہیں سمجھا جا سکتا۔
سوشل میڈیا پر بحث کے دوران کئی صارفین نے وزیراعظم نریندر مودی کے پرانے بیانات کا بھی حوالہ دیا، جن میں انہوں نے خود کہا تھا کہ اب دنیا بھارت کو ”سانپوں کا کرتب دکھانے والا ملک“ نہیں بلکہ کمپیوٹر کا ماؤس چلانے والے نوجوانوں کا ملک سمجھتی ہے۔ اس سے پہلے 2022 میں بھی اسپین کے ایک اخبار نے بھارت کی معاشی ترقی پر بات کرتے ہوئے اسی طرح کا خاکہ بنایا تھا، جس پر تب بھی کافی احتجاج ہوا تھا۔
.png)
12 hours ago
2




English (US) ·