ARTICLE AD BOX
امریکا میں ہونے والے ورلڈکپ کی سستی ترین کیٹیگری کے ٹکٹ بھی قطر کے مہنگے ترین ٹکٹس سے زائد قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں
قطر میں 2022 میں ہونے والے فٹبال ورلڈکپ کے مقابلے میں رواں برس ہونے والے ایونٹ کو تاریخ کا سب سے مہنگا ٹورنامنٹ قرار دیا جارہا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ اس برس سستے ترین ٹکٹ بھی اب اس حد تک مہنگے ہیں کہ عام شائقین کے لیے اسے خریدنا ناممکن ہوگیا ہے۔
فٹبال کے سب سے بڑے میلے فیفا ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی پہلی مرتبہ تین ملک کررہے ہیں جن میں امریکا، کینیڈا اور میکسیکو شامل ہیں۔ ایونٹ میں شریک ٹیمیں میزبان ملکوں میں لینڈ کرچکی ہیں جب کہ شائقین اپنی فیورٹ ٹیموں کو ایکشن میں دیکھنے کے لیے بے تاب نظر آرہے ہیں۔
دوسری جانب یہ عالمی ایونٹ کِک آف مرحلے سے قبل ہی تنازعات کا شکار ہوچکا ہے، جس میں ورلڈکپ کے مہنگے ٹکٹس سب سے اہم معاملہ ہیں۔
فٹبال کی عالمی تنظیم ’فیفا‘ نے شائقینِ فٹبال کو ورلڈکپ میچز براہِ راست اسٹیڈیم میں دیکھنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے قرعہ اندازی کا اہتمام کیا تھا جس میں 45 لاکھ سے زائد افراد نے حصہ لیا تھا، مگر جب قیمتوں کی تفصیل سامنے آئی تو شائقین دنگ رہ گئے۔
فیفا میچز کے ٹکٹس کی فروخت 4 مختلف کیٹیگریز میں کرتا ہے۔ ہر کیٹیگری کے لیے ٹکٹ کی قیمت شروع سے آخر تک یکساں ہوا کرتی تھی مگر اس سال فیفا نے پہلی بار یہ روایتی طریقہ بدل کر امریکی کارپوریٹ کلچر اور اوپن مارکیٹ کے ’ڈائنامک پرائسنگ‘ کا متنازع ماڈل اپنایا ہے۔
اس نئے ماڈل کے تحت طلب بڑھنے پر ٹکٹ کی قیمت بھی بدلتی رہتی ہے یعنی ٹکٹ کی قیمت کیٹیگری کے لحاظ سے فکس نہیں ہے۔ جیسے ہی کسی میچ کی ڈیمانڈ یا ویب سائٹ پر رش بڑھتا ہے، فیفا کا سسٹم خود بخود ٹکٹ کی قیمت بڑھا دیتا ہے۔
اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی اسٹیڈیم میں ایک جیسی سیٹوں کے لیے مختلف شائقین کو الگ الگ قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والے ورلڈکپ کے ٹکٹوں کی قیمت کا موازنہ اگر قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ سے کیا جائے تو زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ سب سے زیادہ بحث ’کیٹیگری 4‘ کے ٹکٹس پر ہو رہی ہے جو عام شائقین کے لیے سب سے سستے سمجھے جاتے ہیں۔
خود صدر ٹرمپ ٹکٹ کی مہنگے داموں فروخت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ’میں امریکا کا افتتاحی میچ دیکھنے کے لیے ایک ہزار ڈالر کا ٹکٹ کبھی نہ خریدتا‘۔
قطر میں ہونے والے ورلڈکپ میں سب سے سستا ٹکٹ 11 ڈالر اور سب سے مہنگا ٹکٹ 1600 ڈالر کا تھا۔ امریکا میں ہونے والے ورلڈکپ میں سب سے سستا ٹکٹ 100 ڈالر جب کہ مہنگا ترین ٹکٹ 6370 ڈالرز میں فروخت ہورہا ہے، جو ’ڈائنامک پرائسنگ‘ کی وجہ سے مزید مہنگا ہوسکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے شائقین فیفا کو ’امیروں کا بورڈ‘ کہہ کر پکار رہے ہیں اور یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا فٹبال کا یہ سب سے بڑا ایونٹ اب صرف امیروں کے لیے رہ گیا ہے؟
یورپ میں فٹ بال شائقین کی سب سے بڑی تنظیم ’فٹ بال سپورٹرز یورپ‘ نے اس ورلڈکپ میں ٹکٹس کی قیمتوں کو لوٹ مارقرار دیتے ہوئے یورپی یونین کمیشن میں فیفا کے خلاف باقاعدہ شکایت درج کرا دی ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ 2018 میں جب امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کو ورلڈ کپ کی میزبانی دی جا رہی تھی، تو فیفا کی دستاویزات میں وعدہ کیا گیا تھا کہ عام فینز کے لیے ٹکٹوں کی ابتدائی قیمت 21 ڈالر کے آس پاس رکھی جائے گی۔ اب گروپ میچز کی ٹکٹس بھی 180 سے 700 ڈالر میں بیچی جا رہی ہیں، جو کہ عام فینز کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔
شکایت میں یہ بھی کیا گیا ہے کہ فیفا نے تشہیر کے دوران 60 ڈالرز کی قیمت والی ٹکٹیں دکھائی تھیں، لیکن یہ ٹکٹیں اتنی کم تعداد میں تھیں کہ عام پبلک کے لیے سیلز کھلنے سے پہلے ہی ختم ہوگئیں۔
فیفا نے اس ایونٹ میں اسٹیڈیم کی سب سے سستی ٹکٹیں یعنی ’کیٹیگری 4‘ صرف میزبان ممالک کے شائقین کے لیے مختص کی ہیں جب کہ اعلیٰ کیٹیگریز کی لاکھوں ٹکٹیں اوپن مارکیٹ میں فروخت کیں، جنہیں دنیا بھر سے کوئی بھی خرید سکتا تھا۔ تاہم حد سے زیادہ مہنگی قیمتوں کی وجہ سے دوسرے ممالک کے عام شائقین یہ ٹکٹیں نہیں خرید سکے۔
اس کے برعکس جو شائقین ٹکٹس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ان کے لیے امریکی حکومت کی ویزا پابندیاں، سخت امیگریشن قوانین اور سفری رکاوٹیں آڑے آگئیں۔
یہی وجہ ہے کہ کئی ملکوں کے شائقین ٹکٹیں خریدنے کے باوجود اپنی ٹیم کو امریکا جا کر سپورٹ نہیں کر سکتے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ ورلڈ کپ کے دوران ہی 15 ممالک کے شہریوں کے ویزا پروسیسنگ کو معطل کرچکے ہیں۔ ان ممالک میں برازیل بھی شامل ہے جب کہ 11 ممالک کے شہریوں کے ویزا ریجیکشن ریٹس 40 فیصد سے بھی زیادہ رہے ہیں، جن میں ایران، گھانا، مصر، الجزائر سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔
شائقین کے لیے ہوٹل کے زائد کرایوں کے علاوہ ایک بڑا مسئلہ سفری اخراجات بھی ہیں۔ چوں کہ یہ ورلڈ کپ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو تینوں ممالک میں بیک وقت ہو رہا ہے، اس لیے اگر کسی فین کی ٹیم کا اگلا میچ دوسرے ملک میں ہے تو اسے دوبارہ سے نیا ویزا اور نئی فلائٹ لینی پڑے گی، جس سے سفری اخراجات عام شائقین کے بجٹ سے باہر ہو سکتے ہیں۔
فیفا نے ورلڈ کپ کے لیے تقریباً 67 لاکھ ٹکٹس مارکیٹ میں پیش کیے تھے، جن میں سے 10 جون تک 50 لاکھ سے زائد ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں۔ آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ آدھے سے زیادہ ٹکٹس فروخت ہوجانے کے باوجود ٹکٹ مہنگے ہونے پر تنقید کیوں کی جارہی ہے؟
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ ٹکٹیں کس نے خریدیں، کس قیمت پر خریدیں اور عام فٹ بال فینز کے ساتھ کیا ہوا۔
پچاس لاکھ ٹکٹیں فروخت ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ سب حقیقی فٹ بال فینز نے خریدی ہیں بلکہ ٹکٹوں کی فروخت شروع ہوتے ہی بڑی کمپنیوں، امیر افراد اور ٹکٹ مافیا نے ’کمپیوٹر بوٹس‘ کے ذریعے لاکھوں ٹکٹیں ایک ساتھ خرید لی تھیں۔ ان کا مقصد میچ دیکھنا نہیں بلکہ ٹورنامنٹ کے دوران ان ٹکٹوں کو بلیک میں مہنگا بیچ کر کروڑوں روپے کمانا تھا۔
یہی 50 لاکھ ٹکٹس اب فیفا کے لیے گلے کی ہڈی بن چکی ہیں کیوں کہ کاغذ پر تو لاکھوں ٹکٹیں فروخت ہو گئیں لیکن اب وہ ٹکٹیں ری سیل مارکیٹ میں مہنگی فروخت ہورہی ہیں۔
فنانشل ٹائمز اور بی بی سی کی رپورٹس کے مطابق، ٹورنامنٹ کے اس مرحلے پر بھی تقریباً ایک لاکھ 76 ہزار ٹکٹ ری سیل مارکیٹ جب کہ تقریباً 15 ہزار ٹکٹ فیفا کے آفیشل پلیٹ فارم پر دستیاب ہیں۔ اگر یہ تمام ٹکٹس فروخت نہ ہوئے تو تاریخ میں پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کے کئی میچز ہزاروں خالی سیٹوں کے ساتھ ہوں گے۔
.png)
1 hour ago
1







English (US) ·