Times of Pakistan

منشیات ڈیلر انمول پنکی کے موبائل فون سے 100 جی بی سے زائد ڈیٹا حاصل کرلیا گیا

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

انمول عرف پنکی ایک ہی موبائل فون میں دو واٹس ایپ اکاؤنٹس استعمال کر رہی تھی: فرانزک رپورٹ

منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے موبائل فون سے غیر معمولی اور وسیع ڈیجیٹل ڈیٹا ریکارڈ تفتیشی ٹیم نے حاصل کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کی جانب سے موبائل فون کی تیار کردہ فرانزک رپورٹ تفتیشی افسر کے حوالے کر دی گئی ہے، جس میں اہم شواہد سامنے آئے ہیں۔

فرانزک رپورٹ کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کے موبائل فون سے 100 جی بی سے زائد ڈیٹا ریکور کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ فون سے 75 ہزار سے زائد پیغامات بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ موبائل فون سے آن لائن ٹرانزکشنز، بینک سلپس اور اسکرین شاٹس بھی حاصل ہوئے ہیں جو مالی لین دین سے متعلق شواہد میں شامل ہیں۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون سے 13 ہزار سے زائد افراد کے ساتھ رابطوں کا ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے۔

فرانزک رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ انمول عرف پنکی ایک ہی موبائل فون میں دو واٹس ایپ اکاؤنٹس استعمال کر رہی تھی، جن میں ایک نمبر پر عام واٹس ایپ اور دوسرے پر بزنس اکاؤنٹ فعال تھا۔

تفتیشی حکام کے مطابق حاصل ہونے والا ڈیجیٹل مواد مزید تحقیقات اور شواہد کے تجزیے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل انمول پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری چالان جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرایا گیا تھا جب کہ پولیس نے 5 ملزمان کو مفرور قرار دے دیا تھا، ان ملزمان میں حمیرا، صابرہ، اینا، اعزاز اور حمزہ شامل ہیں۔

چالان کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی 16 سال سے منشیات کی تیاری میں ملوث تھی، ملزمہ نے اپنے سابق شوہر رانا ناصر سے کوکین کی تیاری سیکھی اور پھر طلاق کے بعد منشیات کا اپنا کام شروع کیا تھا، ملزمہ کراچی اور لاہور میں جگہیں بدل کر رہائش اختیار کرتی تھی۔

چالان میں بتایا گیا کہ ابتدا میں پنکی نے شریک ملزمہ صابرہ کے ذریعے لوکل بسوں سے کوکین کراچی بھیجی، ملزمہ صابرہ کو ایک پھیرے کے 50 ہزار روپے ادا کیے جاتے۔2019 میں اکاؤنٹ منجمد ہونے کے بعد پنکی نے صابرہ کے نام پراکاؤنٹ کھولے، صابرہ گرفتار ہوئی تو حمیرا کو استعمال کیا، ایک اور شریک ملزمہ اینا فی چکر 70 ہزار روپے وصول کرتی تھی، کراچی سے 3 رائیڈرز اعزاز، حمزہ اور عاقب کے نام سامنے آئے۔

چالان کے مطابق ملزمہ پنکی منشیات کی آن لائن فروخت کرتی تھی اوراپنے خریداروں کو ذیشان اور سہیل کے اکاؤنٹس نمبر دیتی تھی، ملزم ذیشان رقم کی وصولی کے اسکرین شاٹ بھیجتا تو پنکی رائیڈرز کے ذریعے منشیات گاہک کو بھیج دیتی۔

ملزم ذیشان کے 5 اور سہیل کے 2 اکاؤنٹس سامنے آئے، ذیشان کے ایک بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں سے زائد کی ٹرانزیکشن کا انکشاف ہوا۔

چالان میں مزید کہا گیا تھا کہ پنکی نے ملزم سمیر کے نام پر بھی مختلف اکاؤنٹ کھلوا رکھے تھے، پنکی کے قبضے سے اسی ملزم سمیر کا اے ٹی ایم کارڈ بھی برآمد ہوا، پنکی کے لاہور کے بینک اکاؤنٹ میں چھ کروڑ انتالیس لاکھ کی رقم موجود تھی، ملزمہ سادہ کوکین 20 ہزار روپے جب کہ گولڈن سٹف 40 ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی، کراچی اور لاہور میں ملزمہ کے خلاف ستائس مقدمات درج ہیں۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزمہ کی ٹریول ہسٹری حاصل کرنے کے لیے ایف آئی اے کو خط لکھا ہے جب کہ اس سے برامد شدہ منشیات اور دیگر اشیاء کی کیمیکل معائنہ کروایا گیا، اداروں کی جانب سے جوابات موصول ہونے کے بعد حتمی چالان جمع کروادیا جائے گا۔

Read Entire Article