Times of Pakistan

ملک بھر سے اب تک کتنے غیرقانونی مقیم افغان باشندوں کو واپس بھیجا جاچکا ہے؟

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

محکمہ داخلہ پنجاب کے فارن نیشنل سیکیورٹی سیل کی غیرقانونی مقیم افغان باشندوں کے انخلا کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

شائع 12 جولائ 2026 07:55pm

محکمہ داخلہ پنجاب کے فارن نیشنل سیکیورٹی سیل کی جانب سے غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے انخلا کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

حکام کے مطابق حکومتِ پاکستان کی پالیسی کے تحت قابلِ قبول ویزا کے بغیر مقیم افغان شہریوں کو گرفتار کرکے ان کے وطن واپس بھجوایا جا رہا ہے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اب تک ملک بھر سے مجموعی طور پر 25 لاکھ 88 ہزار 16 افغان باشندوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے جب کہ صرف پنجاب سے ایک لاکھ 38 ہزار 342 غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی وطن واپسی عمل میں لائی گئی ہے۔

محکمہ داخلہ کے مطابق کریک ڈاؤن کے دوران صوبے بھر کے رہائشی علاقوں اور مارکیٹوں کی جانچ کی گئی جب کہ کارروائیوں کے دوران گرفتار کیے جانے والے افراد کو پہلے ہولڈنگ سینٹرز منتقل کیا جاتا ہے، جہاں ان کی عارضی رہائش، رجسٹریشن اور وطن واپسی کے انتظامات مکمل کیے جاتے ہیں۔

اسی طرح پنجاب میں اس وقت 36 ہولڈنگ سینٹرز فعال ہیں، جہاں اس وقت 53 افغان شہری موجود ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو طورخم بارڈر کے ذریعے افغان حکام کے حوالے کیا جاتا ہے۔

محکمہ داخلہ کا کہنا تھا  کہ یہ اعداد و شمار حکومت کی مؤثر حکمتِ عملی اور فعال انتظامی اقدامات کی عکاسی کرتے ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ افغان شہریوں کے غیر قانونی قیام، شناختی جعلسازی یا کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر دیں، جبکہ اطلاع دینے والے افراد کی شناخت مکمل طور پر صیغۂ راز میں رکھی جائے گی۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے واضح کیا ہے کہ کارروائیاں صرف غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کی جا رہی ہیں جب کہ فارن نیشنل سیکیورٹی سیل صوبے بھر میں اس عمل کی مانیٹرنگ اور کوآرڈینیشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ 

واضح رہے وفاقی وزارت داخلہ نے 28 جون 2026 کو چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز، چیف سیکرٹری گلگت بلتستان،چیف سیکرٹری آزاد کشمیر اورچیف کمشنر اسلام آبادکو فیصلوں پر عمل درآمد کے لیےخط لکھا تھا۔

وزارت داخلہ کے خط میں تمام ڈپٹی کمشنرز، پولیس اور قانون نافذ کرنےوالےاداروں کو ضروری ہدایات جاری کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

Read Entire Article