Times of Pakistan

مقتدیٰ الصدر کا بڑا وار، عراقی جنگجوؤں کی ہلاکت کا ذمہ دار اپنی ہی ملیشیاؤں کو ٹھہرا دیا

12 hours ago 1
ARTICLE AD BOX

سیاسی مبصرین کے مطابق مقتدیٰ الصدر کا یہ بیان عراق کی اندرونی سیاست میں اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے

بغداد: عراق کے بااثر شیعہ مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر نے امریکا اور سعودی عرب کے مشترکہ فضائی حملوں میں پاپولر موبلائزیشن فورسز کے جنگجوؤں اور عراقی سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار بعض عراقی مسلح گروہوں اور ریاست کی کمزور عملداری کو قرار دیا ہے۔

مقتدیٰ الصدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ملیشیاؤں کی غیر ذمہ دارانہ اور جذباتی کارروائیاں اور ہتھیاروں کو ریاستی کنٹرول میں نہ لانے کی ناکامی نے بے گناہ جنگجوؤں کی جانیں خطرے میں ڈالیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض مسلح گروہوں کے رہنما اپنے ذاتی مفادات، آرام اور کاروبار میں مصروف ہیں، جبکہ ان کے ماتحت جنگجو میدان میں جانیں گنوا رہے ہیں۔

مقتدیٰ الصدر نے انفرادی فیصلوں اور غیر منظم عسکری سرگرمیوں کو ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عراق کو مزید ایسی پالیسیوں کا متحمل نہیں ہونا چاہیے جو ملک کو نئی جنگ اور عدم استحکام کی طرف دھکیل دیں۔

انہوں نے امریکا اور سعودی عرب کے حملوں میں ہلاک ہونے والے پی ایم ایف جنگجوؤں اور عراقی سیکیورٹی اہلکاروں کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت بھی کیا، تاہم ساتھ ہی کہا کہ ان ہلاکتوں کے اصل ذمہ دار وہ عناصر ہیں جن کے فیصلوں نے یہ صورتحال پیدا کی۔

بیان کے اختتام پر مقتدیٰ الصدر نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ عراق کو ہر قسم کے شر، بدامنی اور تباہ کن اقدامات سے محفوظ رکھے اور ملک میں امن و استحکام قائم رہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مقتدیٰ الصدر کا یہ بیان عراق کی اندرونی سیاست میں اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ طویل عرصے سے ایران نواز ملیشیاؤں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ بیان سے عراق میں ریاستی اختیار، ملیشیاؤں کے کردار اور ملکی سلامتی سے متعلق بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

Read Entire Article