Times of Pakistan

مفاہمتی یادداشت کی پاس داری

1 day ago 2
ARTICLE AD BOX

امریکا و اسرائیل کا خواب بکھر گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ 39 روزہ جنگ کے بعد ایران کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کرنے پر مجبور ہو گئے

امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ انکشاف کیا ہے کہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کو ناکام بنانے کے لیے اسرائیل کی جانب سے سازشیں کی جا رہی ہیں۔

ان کا موقف ہے کہ بعض اسرائیلی عناصر ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے امریکا میں باقاعدہ مہم چلا رہے ہیں اور اس پر بھاری رقم خرچ کی جا رہی ہے۔ امریکی نائب صدر نے اسرائیل کی جانب سے اس گھٹیا حرکت کے باوجود اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ہم اپنے مفادات کو ہر صورت ترجیح دیں گے کیوں کہ ایران کے ساتھ تنازعات کا مستقل حل فوجی کارروائی کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ دو طرفہ مذاکرات اور افہام و تفہیم سے طے پانے والا سفارتی معاہدہ ہے۔ انھوں نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے زمینی فوج نہیں بھیجے گا بلکہ ایرانی عوام اپنا فیصلہ خود کریں گے۔

پوری دنیا اس بات سے بہ خوبی آگاہ ہے کہ 23 فروری کو ایران پر حملے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ہی اکسایا تھا اور یہ امید اور یقین دہانی کرائی تھی کہ دو چار دن کے لگاتار حملوں کے بعد ایرانی قیادت کو نہ صرف ختم کر دیا جائے گا بلکہ وہاں رجیم چینج کے بعد اپنی مرضی کی کٹھ پتلی حکومت کا قیام آسان ہو جائے گا۔ نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو یہ سنہرا خواب دکھایا تھا کہ ایرانی عوام علی خامنہ ای حکومت سے نالاں اور ان کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہیں۔ ہمارے لیے یہ اچھا موقع ہے کہ ایران میں احتجاج اور بغاوت کو ہوا دے کر وہاں اپنا تسلط قائم کر لیں۔

اس طرح ایران کی جوہری تنصیبات پر بھی ہمارا کنٹرول ہو جائے گا اور ہمارے مستقبل کے منصوبے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ایران دور ہو جائے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی وزیر اعظم کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر اس کے منصوبے پر یقین کرتے ہوئے ایران پر 23 فروری کو حملہ کر دیا۔ اگرچہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای شہید ہو گئے تاہم ایرانی قوم کو ان کی شہادت نے یکجا، منظم اور متحد کر دیا۔ امریکا و اسرائیل کا خواب بکھر گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ 39 روزہ جنگ کے بعد ایران کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کرنے پر مجبور ہو گئے۔ چوں کہ پاکستان امریکا اور ایران دونوں ملکوں کی قیادت کے لیے ایک قابل اعتماد دوست کی حیثیت رکھتا ہے لہٰذا پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا اور سوئٹزرلینڈ میں امریکا و ایران کے درمیان ایم او یو پر دستخط ہو گئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی پر عمل شروع ہو گیا اور اگلے مرحلے کے تکنیکی مذاکرات کا راستہ بھی ہموار ہو گیا۔ ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اول دن سے امریکا ایران مذاکرات کے مخالف رہے۔

ان کی یہ کوشش رہی کہ ایران امریکا کسی معاہدے پر متفق نہ ہونے پائیں۔ امریکا نے نیتن یاہو کو مذاکرات اور معاہدے سے مکمل طور پر دور رکھا نتیجتاً اسرائیل نے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سازشیں شروع کر دیں۔ نیتن یاہو امریکا میں اپنا اثر و رسوخ اور بھاری رقوم خرچ کرکے مفاہمتی یادداشت کو ناکام بنانے کے لیے لابنگ کر رہے ہیں۔ اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ایران کے خلاف تنازعات کا مستقل حل صرف سفارت کاری معاہدے میں ہے نہ کہ فوجی کارروائی سے مقاصد حل ہو سکتے ہیں۔

نیتن یاہو کے مذموم عزائم اور ناپاک ارادوں اور سازشوں و چالوں کے باعث نہ صرف اسرائیل میں ان کی مقبولیت میں کمی ہوتی جا رہی ہے بلکہ امریکا میں بھی عوامی سطح پر ان کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں اور ان کی قبولیت کا گراف نیچے آ رہا ہے۔ بعینہ ایران کے حوالے سے حکومتی سطح پر بھی امریکا اور اسرائیل کے درمیان فاصلے پیدا ہو رہے ہیں۔ جے ڈی وینس کے تازہ انکشاف کے بعد ٹرمپ یاہو خلیج میں مزید اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے اور دونوں کے درمیان نئے اختلافات جنم لے رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں نیتن یاہو کا مجوزہ دورہ امریکا بھی منسوخ ہو گیا اور ان کی صدر ٹرمپ سے ملنے کی خواہش پوری نہ ہو سکی۔ اس کے باوجود اسرائیلی میڈیا صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ممکنہ ملاقات کا جھوٹا پروپیگنڈا کر رہا ہے جس کا فی الحال کوئی امکان نہیں۔ ادھر امریکا اور ایران تواتر کے ساتھ ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں۔

تازہ امریکی حملوں میں ایران کے ریلوے اسٹیشن، پل ، بجلی گھر، ایئرپورٹ اور دیگر سویلین انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جواب میں ایران نے شام، کویت، عمان، اردن اور قطر پر میزائل داغ کر امریکی اہداف کو نشانہ بنایا۔ چین اور پاکستان نے امریکا ایران پر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی پاسداری پر زور دیا ہے۔ امریکا ایران دونوں کو خطے کے امن کے لیے ایم او یو کی پاسداری کرتے ہوئے جنگ بندی کا اعلان اور مذاکرات کا دوبارہ آغاز کرنا چاہیے، ورنہ جنگ کا دائرہ پھیل جائے گا۔

Read Entire Article