ARTICLE AD BOX
خوش قسمتی سے ڈرائیور اور گاڑی میں سوار ٹریفک اہلکار دونوں معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ایک سنسنی خیز اور افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں 5 ہزار روپے کا چالان ہونے اور گاڑی ضبطگی کی کوشش پر ڈرائیور نے غصے میں آکر مسافر کوسٹر کو دریائے جہلم میں پھینک دیا۔ واقعے کے نتیجے میں گاڑی دریا میں بہہ گئی تاہم خوش قسمتی سے ڈرائیور اور گاڑی میں سوار ٹریفک اہلکار دونوں معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
مظفرآباد میں ٹریفک پولیس نے ایک مسافر کوسٹر کا 5 ہزار روپے کا بھاری چالان کیا، چالان کے بعد ٹریفک پولیس کی جانب سے گاڑی کو ضبط کرنے کی کوشش کی گئی اور ایک ٹریفک اہلکار کوسٹر میں سوار ہو گیا۔
ٹریفک اہلکار کے رویے اور گاڑی ضبط کیے جانے سے تنگ آکر ڈرائیور آپے سے باہر ہو گیا اور اس نے انوکھا احتجاج کرتے ہوئے سپریم کورٹ چوک سے مسافر کوسٹر کو دریائے جہلم میں پھینک دیا۔
گاڑی دریا میں گرتے ہی ڈرائیور اور اس میں سوار ٹریفک اہلکار نے چھلانگ لگا کر اپنی جانیں بچائیں تاہم کوسٹر تیز لہروں کی نذر ہو کر بہہ گئی۔
واقعے کے فوراً بعد ڈرائیور کے ورثا اور مقامی ٹرانسپورٹرز نے ٹریفک پولیس کے مبینہ ناروا رویے کے خلاف شدید احتجاج شروع کر دیا۔
مظاہرین نے سپریم کورٹ چوک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے، جس کے باعث سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی انتظامیہ اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ چکی ہے اور مظاہرین سے مذاکرات کے ذریعے شاہراہ کو کھلوانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
.png)
5 hours ago
1




English (US) ·