Times of Pakistan

'مشرقِ وسطیٰ میں جنگیں بند ہونی چاہئیں': شی جن پنگ کی پیوٹن سے ملاقات میں گفتگو

13 hours ago 1
ARTICLE AD BOX

روس اور چین میں 40 معاہدوں پر اتفاق، اسٹریٹجک تعاون بڑھانے اور عالمی معاملات پر مشترکہ مؤقف جاری کرنے کا بھی اعلان

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقاتوں کے بعد دونوں ممالک نے تقریباً 40 معاہدوں پر اتفاق کیا ہے، جن میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور عالمی پلیٹ فارمز پر مشترکہ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، جب کہ ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال جنگ اور امن کے درمیان نازک موڑ پر کھڑی ہے، یہ تمام دشمنیاں فوری ختم ہونی چاہئیں۔ انہوں نے یہ بات چین کے دورے پر آئے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اپنے دو روزہ سرکاری دورے پر منگل کی شب بیجنگ پہنچے ہیں۔

روسی صدارتی دفتر کریملن کے مطابق روس اور چین کے درمیان طے پانے والے تقریباً 40 معاہدوں میں سے 20 دستاویزات پر صدر ولادیمیر پیوٹن اور صدر شی جن پنگ کی موجودگی میں دستخط کیے گئے، جبکہ مزید 20 معاہدوں کا الگ سے اعلان کیا جائے گا۔

تقریب سے قبل دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے آغاز میں مصافحہ کیا، دستاویزات کا تبادلہ کیا اور تصاویر بنوائیں، جس کے بعد دستخطی تقریب منعقد ہوئی۔ سب سے پہلے جس دستاویز پر دستخط کیے گئے وہ “جامع اسٹریٹجک رابطہ کاری” سے متعلق مشترکہ اعلامیہ تھا۔

کریملن نے تصدیق کی ہے کہ ملاقات میں توانائی کے منصوبے بھی زیر بحث آئے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان توانائی کے شعبے میں ایک “اہم معاہدہ” طے پایا ہے، تاہم اس کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ دورۂ بیجنگ کے بعد پیوٹن اور شی جن پنگ کی ملاقات کو عالمی سطح پر خاص توجہ سے دیکھا جا رہا ہے اور دونوں دوروں کے انداز اور نتائج کا تقابل بھی کیا جا رہا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس ملاقات کا موازنہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین سے کیے جانے کے سوال پر کہا کہ اصل اہمیت تقریبات یا ظاہری انداز میں نہیں بلکہ معاہدوں اور ان کے مواد میں ہے۔ انہوں نے روسی سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ’رسمی تقریبات کے مقابلے میں مادی چیزوں کی زیادہ قدر ہوتی ہے‘۔

شی جن پنگ ماضی میں غیر ملکی رہنماؤں کی چائے پر میزبانی کے لیے جانے جاتے ہیں اور ایسے مواقع کو اکثر چین کی سفارتی اہمیت کے اشارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مئی 2024 میں شی جن پنگ اور پیوٹن نے ژونگ نان ہائی کے باغات میں بغیر ٹائی کے غیر رسمی انداز میں ملاقات کی تھی، جبکہ ٹرمپ کے دورے کے دوران چینی قیادت نے نسبتاً زیادہ منظم اور علامتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا تھا۔

دوسری جانب صدر پیوٹن نے ابتدائی مذاکرات کو اہم اور جامع قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس اور چین کی شراکت داری ایک مثالی تعلق کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک اپنے عوام کی خوشحالی کے لیے تعاون بڑھائیں گے اور عالمی پلیٹ فارمز پر بھی مل کر کام جاری رکھیں گے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے ملاقات کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں لڑائی کا خاتمہ ناگزیر ہے اور مذاکرات کی راہ اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔

شی جن پنگ کے مطابق جنگ بندی سے عالمی توانائی کی فراہمی میں استحکام آئے گا اور بین الاقوامی تجارتی نظام کو درپیش خطرات میں بھی کمی ممکن ہو سکے گی۔

Read Entire Article