Times of Pakistan

لکی مروت میں جے یو آئی عہدیدار سمیت دو افراد قتل، احتجاجاً انڈس ہائی وے بلاک

1 hour ago 3
ARTICLE AD BOX

مقتولین کے لواحقین کا پولیس امن کمیٹی پر سنگین الزام، لاشیں رکھ کر پشاور کراچی شاہراہ بلاک کردی

اپ ڈیٹ 12 جون 2026 11:42am

خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مقامی رہنما اور سابق ویلیج ناظم گل زرین سمیت دو افراد کی لاشیں ملنے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ واقعے کے خلاف جے یو آئی کارکنوں اور مقتولین کے لواحقین نے پشاور کراچی انڈس ہائی وے بلاک کرکے احتجاج شروع کر دیا، جبکہ واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

Two people including a JUI official killed in Lakki Marwat

لکی مروت کے علاقے خانزادہ خیل میں سڑک کے کنارے سے دو افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس کے مطابق دونوں افراد کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔

پولیس نے مقتولین کی شناخت گل زرین ٹھیکیدار اور مطیع اللہ کے نام سے کی ہے۔ دونوں کا تعلق لکی مروت کے علاقے پہاڑ خیل پکہ سے بتایا جاتا ہے۔

پولیس کے مطابق مقتول گل زرین علاقے کے سابق ویلیج ناظم تھے اور سیاسی طور پر جمیعت علمائے اسلام کی تحصیل کابینہ کے سرگرم رکن بھی تھے۔

واقعے کے بعد جمیعت علمائے اسلام لکی مروت نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کیا۔ جے یو آئی کارکنوں، مقامی رہنماؤں اور مقتولین کے لواحقین نے لاشوں کو سڑک پر رکھ کر تاجہ زئی کے مقام پر پشاور کراچی انڈس ہائی وے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی۔

شاہراہ کی بندش کے باعث دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

احتجاجی مظاہرے میں جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسجد محمود نے بھی شرکت کی اور مقتولین کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت اور یکجہتی کیا۔

مقتولین کے لواحقین نے واقعے پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گل زرین اور مطیع اللہ کو پولیس امن کمیٹی نے حراست میں لیا تھا اور بعد میں ان کی لاشیں برآمد ہوئیں۔

احتجاج کے دوران لواحقین اور مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ دونوں افراد کو پولیس امن کمیٹی نے قتل کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک انہیں انصاف کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

دوسری جانب احتجاجی شرکا نے اعلان کیا ہے کہ مقتولین کی نمازِ جنازہ بھی پشاور کراچی انڈس ہائی وے پر ادا کی جائے گی۔

تاہم پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے لواحقین کے الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

Read Entire Article