Times of Pakistan

لبنان میں جنگ کے باعث غذائی بحران سنگین، 12 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہونے کا خدشہ

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس بگاڑ کی بڑی وجوہات جنگی صورتِ حال، آبادی کی نقل مکانی اور معاشی دباؤ ہیں۔

شائع 29 اپريل 2026 06:48pm

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ کے باعث 12 لاکھ سے زائد افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس صورتِ حال کو انسانی بحران میں بڑی شدت قرار دیا گیا ہے۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر غذائی عدم تحفظ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس کے مطابق لاکھوں افراد خوراک کی شدید کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او)، ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ای پی) اور لبنان کی وزارت زراعت کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق 1.24 ملین افراد، یعنی ملک کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی، اپریل سے اگست 2026 کے دوران بحران یا اس سے بدتر سطح کی غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتِ حال جنگ سے پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر بگڑ چکی ہے، جب مارچ میں اندازاً 874,000 افراد شدید غذائی قلت کا شکار تھے، جو کل آبادی کا تقریباً 17 فیصد بنتا تھا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس بگاڑ کی بڑی وجوہات جنگی صورتِ حال، آبادی کی نقل مکانی اور معاشی دباؤ ہیں، جنہوں نے ملک کی خوراک کی دستیابی اور رسائی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

غذائی عدم تحفظ اس صورتِ حال کو کہتے ہیں جب افراد کو مناسب مقدار میں محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک باقاعدگی سے دستیاب نہ ہو۔ لبنان گزشتہ چند برسوں سے معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور علاقائی کشیدگیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ملک کی معیشت پہلے ہی 2019 کے مالیاتی بحران، کرنسی کی شدید قدر میں کمی اور بینکاری نظام کے کمزور ہونے کے باعث دباؤ میں تھی۔

حالیہ عرصے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی اور محدود مگر مسلسل جھڑپوں نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سرحدی علاقوں سے آبادی کی نقل مکانی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث زرعی پیداوار، روزگار اور بنیادی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔

جنگی صورتِ حال کے باعث نہ صرف جنوبی لبنان بلکہ دیگر علاقوں میں بھی معاشی سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں، جس سے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اور عام شہریوں کی خریداری کی صلاحیت میں کمی دیکھی گئی ہے۔

اقوام متحدہ اور دیگر امدادی ادارے پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر صورتحال اسی طرح جاری رہی تو لبنان میں انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے اور بے گھر ہونے والے افراد کے لیے حالات انتہائی سنگین ہو جائیں گے۔


Read Entire Article