Times of Pakistan

قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی میں پنکی کیس زیر بحث: پرویز اشرف کی پیشی اور الزامات پر وضاحت

6 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

پنکی کے وکیل نے عدالت پیشی کے دوران پرویز اشرف کا نام لیا، سندھ پولیس اور ایف آئی اے افسران جواب دیں: چیئرمین کمیٹی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ڈرگ کوئین انمول عرف پنکی کیس ایک بار پھر زیرِ بحث آگیا، اجلاس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف خود پیش ہوئے اور واضح کیا کہ انمول پنکی کے وکیل نے عدالت میں ان کا نام لینے سے پہلے اور بعد میں مختلف بیانات دیے۔

بدھ کو چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا، جس میں اراکین نے اداروں کی کارکردگی، میڈیا کوریج اور منشیات کے بڑھتے نیٹ ورک پر سخت سوالات اٹھائے۔

ڈرگ کوئین انمول عرف پنکی کے معاملے پر سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کمیٹی اجلاس میں پہنچے اور شرکا کو بتایا کہ مجھے جو پہلا کلپ ملا اس میں کہا گیا کہ راجہ پرویز صاحب، بہت سے لوگوں کی کالز آئی کہ آپ اس معاملے میں کیسے آئے ایک گھنٹے کے دوران دوسرا کلپ اس کے وکیل کا موصول ہوا، وکیل نے کہا انمول نے بتایا کہ اس پرتشدد کیا جارہا ہے کہ راجہ پرویزاشرف کا نام لو، حیران ہوں کہ سندھ میں ہماری حکومت ہے وہاں کوئی ایسا کیوں کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ویلاگرز کو سوشل میڈیا پر بیچنے کے لیے مصالحے دار چیزیں چاہیے، اس کا تدارک کرنا ہوگا، یہ ختم نہیں ہوسکتا تواس کومحدود کرنا ہوگا۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ انمول پنکی کے وکیل نے عدالت پیشی کے دوران راجہ پرویزاشرف کا نام لیا، اس پر سندھ پولیس اور ایف آئی اے افسران جواب دیں۔

کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انمول پنکی گزشتہ 18 سال سے لاہور اور کراچی میں منشیات کے نیٹ ورک سے جڑی ہوئی تھی جب کہ اس کے موبائل فون سے غیرملکی ڈیلرز سمیت بڑے شواہد بھی ملے ہیں، انمول پنکی بائیکیا رائیڈرز کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی رہی جب کہ اس کے دو بھائی اور دیگر خواتین بھی نیٹ ورک میں شامل ہیں۔

اجلاس میں خواجہ اظہار الحسن نے سائبر کرائم اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کئی کیس میڈیا حل کر دیتا ہے جب کہ پولیس کے پاس جدید فرانزک سہولیات بھی موجود نہیں۔

آغا رفیع اللہ نے سوال اٹھایا کہ اگر میڈیا عدالت پیشی نہ دکھاتا تو یہ معاملہ سامنے کیسے آتا جب کہ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ میڈیا نے اس کیس کو غیر معمولی ہائی پروفائل بنایا۔

دوسری جانب اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس میں سوشل میڈیا پر راجہ پرویز اشرف اور انمول پنکی کے رابطوں کا تذکرہ ہوا، راجہ پرویز اشرف نے سوشل میڈیا پر لگائے تمام الزامات کو مسترد کردیا۔

سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف نے منشیات کیس میں گرفتار خاتون پنکی کی جانب سے ان کا نام لیے جانے کے معاملے پر نکتہ اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ خاتون نے عدالت میں بیان دیا کہ اس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ان کا نام لے، ابتدا میں اسی خاتون نے کسی اور شخصیت کا نام لینے کا الزام بھی لگایا تھا، سوشل میڈیا پر قواعد و ضوابط ہونے چاہئیں تاکہ کسی بھی شخص پر بے بنیاد الزامات لگا کر اس کی ساکھ خراب نہ کی جا سکے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے سابق وزیراعظم کے حق میں گواہی دیتے ہوئے کہا کہ راجہ پرویز اشرف کو ہرکوئی جانتا ہے، آج اگر ان کے ساتھ ایسا ہوا ہے تو کل کسی اور کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔

وزیرقانون اعظم نذیر تارڈ نے کہا حکومت ہر رکن کی عزت و وقار کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر جائے گی اوراس معاملے میں سخت ایکشن لیا جائے گا۔ قوانین موجود ہیں، اب ان پر بلاامتیازعمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ منشیات دیمک کی طرح نوجوان نسل کوکھا رہی ہے، اس لیے وفاقی اورصوبائی حکومتوں کو منشیات کے خاتمے کے لیے تیز رفتار اقدامات کرنا ہوں گے۔

Read Entire Article