Times of Pakistan

قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی میں ایک بار پھر ڈرگ کوئین انمول عرف پنکی کے معاملے کی گونچ

15 hours ago 1
ARTICLE AD BOX

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز کی زیر صدارت شروع ہوا۔

اجلاس میں پیش کردہ 16 فروری کے منٹس پر آغا رفیع اللہ برہم ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کے لوگ یہاں پیش نہیں ہوتے، ایسے پارلیمان کی تذلیل نہ کی جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وزراء کو کمیٹی میں پیش ہونے کا کہا گیا تھا اور یہی بات پارلیمنٹ میں بھی ہوئی تھی۔

اجلاس میں ایک بار پھر ڈرگ کوئین انمول عرف پنکی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ چیئرمین کمیٹی کے مطابق انمول پنکی کے وکیل نے عدالت میں پیشی کے دوران سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف کا نام لیا، جس پر سندھ پولیس اور ایف آئی اے افسران کو جواب دینا ہوگا۔

سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کمیٹی میں پیش ہوئے اور کہا کہ انہیں جو پہلا کلپ ملا اس میں راجہ پرویز صاحب اور راجہ پرویز اشرف کا ذکر تھا۔ ان کے مطابق بہت سے لوگوں کی کالز آئیں کہ آپ اس معاملے میں کیسے آئے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ایک گھنٹے کے دوران دوسرا کلپ ان کے وکیل کا موصول ہوا، جس میں کہا گیا کہ انمول کے مطابق اس پر تشدد کیا جا رہا ہے کہ وہ راجہ پرویز اشرف کا نام لے۔

انہوں نے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ سندھ میں ان کی حکومت ہے اور وہاں ایسا کیوں ہوگا۔ ویلاگرز کو سوشل میڈیا پر بیچنے کے لیے ایسے مصالحے دار مواد کی ضرورت ہوتی ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اسمبلی میں بات کی اور چیئرمین کمیٹی نے فوری اس پر نوٹس لیا۔ ان کے مطابق اس کا تدارک کرنا ہوگا، اگر یہ ختم نہیں ہو سکتا تو اسے محدود کرنا ہوگا۔

اس سے قبل اجلاس میں راجہ پرویز اشرف نے کہا تھا کہ اداروں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ تہمت لگنے پر انسان پریشان ہو جاتا ہے اور ان کے مخالفین نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔

Read Entire Article