Times of Pakistan

قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا، پاکستانیوں سمیت 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

دھماکے کے باوجود ایل این جی کی برآمدات اور بندرگاہ کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں: قطر انرجی

قطر کے اہم صنعتی شہر راس لفان انڈسٹریل سٹی میں واقع ایل این جی پلانٹ میں دھماکے سے پاکستانی اور بھارتی شہریوں سمیت 13 افراد جاں بحق جب کہ 66 افراد زخمی ہوگئے۔ قطر انرجی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے کے باوجود ایل این جی کی برآمدات اور بندرگاہ کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

خبر رساں ادارے گلف نیوز کے مطابق سرکاری توانائی کمپنی قطر انرجی نے بتایا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ کے قریب واقع راس لفان انڈسٹریل سٹی میں دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) پلانٹس میں سے ایک میں ہونے والے زوردار دھماکا سے خوفناک آگ بھڑک اُٹھی۔

دھماکے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 13 تک پہنچ گئی ہے، جاں بحق ہونے والوں میں پاکستانی اور بھارتی شہری شامل ہیں جب کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ دھماکے میں مجموعی طور پر 66 افراد زخمی ہوئے، جن میں قطری، تنزانیہ، بھارت، پاکستان، گنی، نیپال، بنگلہ دیش، کینیا اور نائیجیریا کے شہری شامل ہیں۔ حکام کے مطابق کسی بھی زخمی کی حالت تشویشناک نہیں۔

قطر انرجی کا کہنا تھا کہ دھماکے سے ملک کی ایل این جی برآمدات، گیس کی تنصیبات یا راس لفان بندرگاہ کے آپریشنز متاثر نہیں ہوئے جب کہ تمام سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

اس سے قبل اتوار کی شب برزان میں واقع گھریلو گیس سپلائی کی ایک فیکٹری پر بھی بحالی کے کام کے دوران دھماکا ہوا تھا، جس کے بعد امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا تھا۔ واقعے کے ابتدائی گھنٹوں میں 18 افراد لاپتہ اور 54 زخمی رپورٹ ہوئے تھے۔

قطری وزارت داخلہ نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا کہ اتوار کو پیش آنے والا دھماکا ایک ”تکنیکی واقعے“ کے نتیجے میں ہوا۔ وزارت کے مطابق متعلقہ ادارے لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وزارت داخلہ نے ابتدائی بیان میں واقعے کو ”اندرونی دھماکا“ قرار دیا تھا جب کہ بعد ازاں جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ دھماکے کی وجہ ایک تکنیکی خرابی تھی۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد کئی کلومیٹر دور تک آسمان پر شعلے اور دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔ راس لفان دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) مراکز میں شمار ہوتا ہے۔

قطر انرجی نے عالمی منڈی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ راس لفان میں پیش آنے والے حادثے سے قدرتی گیس کی پیداوار، برآمدات اور عالمی سپلائی چین پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

واضح رہے کہ راس لفان کا صنعتی علاقہ حالیہ برسوں میں خطے میں کشیدگی اور توانائی تنصیبات پر حملوں کے باعث بھی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اس سے قبل مارچ میں بھی راس لفان انڈسٹریل سٹی میں ایرانی میزائل حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے بعد گیس کی پیداوار عارضی طور پر روک دی گئی تھی۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بعد ازاں سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث قطر نے اپنی برآمدات بھی محدود کر دی تھیں تاہم حالیہ دنوں میں بحالی کی کوششیں جاری تھیں۔

Read Entire Article