Times of Pakistan

فلوٹیلا کارکنان کی حراست کی ویڈیو نے نیا سفارتی تنازع کھڑا کر دیا، اٹلی کا سخت ردِ عمل

5 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

اٹلی کی وزیراعظم نے واقعے کو انسانی وقار کے منافی قرار دے کر فوری رہائی اور وضاحت کا مطالبہ کر دیا۔

غزہ کے لیے امداد لے جانے والے ’صمود فلوٹیلا‘ کے کارکنوں کی حراست سے متعلق ویڈیو سامنے آنے کے بعد معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ ویڈیو پر اسرائیلی وزرا کے متضاد بیانات کے باعث صورتِ حال ایک بین الاقوامی تنازع میں تبدیل ہو گئی ہے۔ اٹلی کی وزیراعظم نے واقعے کو انسانی وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے فوری رہائی اور باضابطہ وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

صمود فلوٹیلا سے وابستہ کارکنان کی اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں حراست اور مبینہ ناروا سلوک کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد صورتِ حال مزید حساس ہو گئی جب اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے عبرانی زبان میں کیپشن لکھا کہ ’ہم دہشت گردی کے حامیوں کے ساتھ اسی طرح پیش آتے ہیں۔‘

ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں وہ افراد دکھائے گئے ہیں جنہیں اسرائیلی فورسز نے غزہ کی جانب جانے والے امدادی مشن کے دوران حراست میں لیا تھا۔

اس واقعے پر اسرائیلی وزیر خارجہ گیدعون سار نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس طرزِ عمل نے ریاست کو نقصان پہنچایا ہے اور مختلف اداروں کی پیشہ ورانہ کوششوں کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایتامار بن گویر کی ویڈیو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ فوج (آئی ڈی ایف)، وزارت خارجہ اور دیگر اداروں کی وسیع کوششیں اس شرمناک کارکردگی کی نذر ہو گئیں۔

گیدعون سار نے اپنے بیان میں بن گویر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’نہیں، تم اسرائیل کا چہرہ نہیں ہو۔‘ ان کے اس بیان کو حکومت کے اندرونی اختلاف اور فاصلہ ظاہر کرنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ویڈیو اور اس پر ہونے والے سیاسی ردعمل کے بعد اسرائیلی حکومت کے اندر مختلف بیانیوں نے اس معاملے کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔

دوسری جانب اس واقعے پر اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔

جارجیا میلونی نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی وزیر کی جانب سے سامنے آنے والی تصاویر ناقابلِ قبول ہیں اور یہ بھی ناقابلِ برداشت ہے کہ ان کارکنوں، جن میں متعدد اطالوی شہری بھی شامل ہیں، کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا جو انسانی وقار کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اٹلی کی حکومت فوری طور پر اعلیٰ ترین سطح پر تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے تاکہ اس واقعے میں شامل اطالوی شہریوں کی فوری رہائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اطالوی وزیراعظم کے مطابق اٹلی اس بات کا بھی مطالبہ کرتا ہے کہ ان فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ کیے گئے سلوک اور اطالوی حکومت کی درخواستوں کو نظر انداز کرنے پر باضابطہ معافی مانگی جائے۔

جارجیا میلونی نے مزید کہا کہ انہی وجوہات کی بنیاد پر اٹلی کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر اسرائیلی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ واقعے پر باضابطہ وضاحت طلب کی جا سکے۔

Read Entire Article