ARTICLE AD BOX
امریکی ثالثی میں ہونے والی غزہ جنگ بندی معاہدے اور پیس بورڈ کے یام کے باوجود اسرائیل کے فضائی حملے تواتر سے جاری ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے جنوبی علاقے میں فضائی حملے کیے جسے اب تک کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ ترجمان اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ غزہ میں حماس کے کمانڈر حسام شفاعی کو نشانہ بنایا جن پر 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیلی سرزمین پر حملے میں ملوث تھے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے بقول حسام شفاعی حسام کے ایسٹ خان یونس بٹالین سے وابستہ تھے اور 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیلی علاقے کبوٹز نیرم پر حملے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اُس حملے کے دوران غزہ ڈویژن کی جنوبی بریگیڈ کے کمانڈر کرنل آصف حمامی، اسٹاف سارجنٹ تومر احیمس اور سارجنٹ کیریل بروڈسکی حماس سے لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔ ترجمان اسرائیلی فوج نے بتایا کہ حماس کے کمانڈر حسام شفاعی نے دیگر افراد کے ساتھ مل کر ان تینوں فوجیوں کی لاشوں کو غزہ منتقل کرنے میں حصہ لیا تھا اور وہ اب بھی اسرائیلی افواج پر حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں میں سرگرم تھا۔ یاد رہے کہ اسرائیلی فوج کے کرنل آصف حمامی کی لاش نومبر 2025 میں حماس کے ساتھ ہونے والے یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت اسرائیل کے حوالے کی گئی تھی۔ اسٹاف سارجنٹ تومر احیمس اور سارجنٹ کیریل بروڈسکی کی لاشیں 2024 میں غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران برآمد کی گئی تھیں۔ کمانڈر حسام شفاعی کی شہادت پر حماس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جبکہ آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ واضح رہے کہ غزہ جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل نے انٹیلی جنس بنیاد پر مسلسل حماس کے کمانڈرز کو نشانہ بنارہا ہے جس میں عزالدین سمیت اہم اور مرکزی رہنما شہید ہوچکے ہیں۔
.png)
15 hours ago
1




English (US) ·