ARTICLE AD BOX
قوموں کی زندگی عروج و زوال سے عبارت ہوتی ہے۔ مختلف النوع حوادث اور سانحات قوموں کی آزمائش بن جاتے ہیں۔
قوموں کی زندگی عروج و زوال سے عبارت ہوتی ہے۔ مختلف النوع حوادث اور سانحات قوموں کی آزمائش بن جاتے ہیں۔ کڑے امتحانوں میں بحرانوں سے گزر کر منزل مقصود تک پہنچنا روشن مستقبل کی دلیل ہوتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ زندہ، باوقار اور باہمت قوموں نے آزمائش کے لمحات میں ثابت قدمی سے حالات کا بڑے تحمل، بردباری، ذہانت، ہمت اور حوصلے کے ساتھ سامنا کیا۔ جبر اور تکلیفیں برداشت کیں، مشکل حالات کا پامردی سے مقابلہ کیا اور منزل کی جستجو میں قدم بہ قدم آگے بڑھتے گئے اور اپنے گوہر مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ وہ قومیں یقیناً بڑی خوش قسمت ہیں جنھیں ایسے رہنما و قائدین میسر آئے جنھوں نے دیانت، امانت، صداقت، قوت ارادی، جرأت و بہادری اور اعتماد و یقین کے ساتھ اپنے لوگوں کی رہنمائی کی۔ اپنے اصولوں، نظریات اور فیصلوں پر غیر متزلزل یقین کے ساتھ کھڑے رہے اور حالات کے ہر جبر کا دلیری سے مقابلہ کرکے ایسی تاریخ رقم کر دی جو آنے والی نسلوں اور دیگر اقوام کے لیے مشعل راہ بن گئی۔ آج کا ایران دنیا کے لیے ایسی ہی ایک شان دار تاریخ رقم کر رہا ہے۔ 11 فروری 1979 کو رضا شاہ پہلوی کی شہنشاہیت کا تختہ ایرانی انقلاب کے سرخیل امام خمینی نے الٹ کر ایران میں ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کی بنیاد رکھی تو دنیا میں ہلچل مچ گئی۔ امریکا سے لے کر یورپی یونین اور اقوام متحدہ تک نے ایران پر کڑی تجارتی پابندیاں عائد کر دیں اور اربوں ڈالر کے ایرانی اثاثے منجمد کر دیے۔ امریکا نے ایران انوسٹمنٹ ایکٹ (ISA) کے تحت ایرانی تیل و گیس کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر پابندیاں لگا دیں۔ یورپی یونین نے ایران کے مرکزی بینک اور تیل کی برآمدات کو نشانہ بنایا اور اقوام متحدہ نے سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام سے متعلق اشیا کی درآمد پر پابندیاں عائد کر دیں۔ امام خمینی محض انقلاب کے دس سال بعد 89 سال کی عمر میں 3 جون 1969 کو وفات پا گئے۔ قوم صدمے میں ڈوب گئی۔ آزمائش و امتحانوں کا ایک نیا دور شروع ہو گیا۔ ایران کی مجلس خبرگان نے امام خمینی کے دست راست اور معتمد خاص آیت اللہ سید علی خامنہ ای، جو اس وقت ایران کے صدر تھے، کو قیادت کی ذمے داری سونپ دی۔ وہ 6 اگست 1989 سے 28 فروری 2026 (اپنی شہادت) تک 36 برس ایران کے سپریم لیڈر رہے۔ ان کا دور مشرق وسطیٰ میں کسی بھی سربراہ حکومت کا سب سے طویل دور گردانا جاتا ہے، وہ ایران کے سب سے طاقت ور ترین رہنما تھے۔ انھیں تمام سرکاری و حکومتی فیصلوں پر حتمی اور ویٹو کی طاقت حاصل تھی۔ رہبر علی خامنہ ای کی قیادت نے ایران کی داخلی سیاست، مشرق وسطیٰ سے ایران کے خارجہ تعلقات سمیت بین الاقوامی مراسم پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ انھوں نے ایران عراق جنگ، خطے میں ایران کی پالیسیوں اور ایران کے ایٹمی پروگرام کو تمام تر مشکلات، مسائل اور پابندیوں کے باوجود آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکا و اسرائیل کے ایران پر حملے سے قبل عوامی سطح پر خامنہ ای حکومت کو مہنگائی و گرانی کے خلاف لوگوں کے احتجاج کا سامنا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ ایرانی عوام کو خامنہ ای حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے اکساتے رہے۔ رجیم چینج کا بہانہ بنا کر امریکا و اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کر دیا جس میں علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے دیگر لوگ شہید ہوگئے۔ ان کی شہادت نے ایرانی قوم کو پھر سے منظم و متحد کر دیا۔ 39 روز تک امریکا و اسرائیل ایران پر میزائلوں کی بارش کرتے رہے۔ ایران کے تعلیمی ادارے، تجارتی، توانائی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تاہم ایرانی قیادت اور عوام نے بڑے صبر و تحمل اور جرأت و بہادری اور بے مثال قومی یکجہتی و اتحاد کے ذریعے دنیا کی سپر پاور امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور صدر ٹرمپ نے ایران سے معاہدہ کرنے ہی میں اپنی عافیت جانی۔ پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ ادھر شہید لیڈر علی خامنہ کے جلوس جنازہ میں لاکھوں ایرانیوں نے اپنے عظیم رہبر سے محبت و عقیدت کا مظاہرہ کیا۔ امریکا و اسرائیل سے انتقام لینے کے نعرے لگائے گئے ،جو اس امر کے عکاس ہیں کہ ایرانی قوم اپنے عظیم قائد کے قتل کا بدلہ لے گی، یہ انتقامی نعرے امریکا و اسرائیل کے واضح پیغام ہیں کہ آج کا ایران خامنہ ای کی شہادت کے بعد زیادہ مضبوط، مستحکم، قومی یکجہتی و اتحاد کی علامت بن چکا ہے جس کے گہرے اثرات مشرق وسطیٰ کی سیاست پر پڑیں گے۔ خطے میں نیا اتحاد جنم لے گا جس میں ایران و سعودی عرب اہم کردار ادا کریں گے۔ا1ھ
.png)
7 hours ago
1




English (US) ·