ARTICLE AD BOX
شائع 20 فروری 2026 11:49pm
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے ٹیرف فیصلے پر اپنے ردِ عمل میں کہا کہ یہ فیصلہ انتہائی مایوس کن ہے اور ایسے فیصلے ہماری قوم کی توہین ہیں۔ انہوں نے عدالت پر سیاسی دباؤ ہونے کا بھی عندیہ دیا اور کہا کہ عدالت کتنی آسانی سے دباؤ میں آ جاتی ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے ٹیرف اقدام کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ٹیرف کے ذریعے اپنے دور میں عالمی معاملات میں کامیابیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جو لوگ چار سال میں نہیں کر پائے، ہم نے ایک سال میں کر دکھایا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ٹیرف کی وجہ سے وہ آٹھ میں سے پانچ جنگیں روکنے میں کامیاب ہوئے، جن میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ بھی شامل تھی، جو نیوکلیر جنگ میں بدل سکتی تھی۔
صدر ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ان کی مدد سے 35 ملین افراد کی جانیں بچائی گئیں اور جنگ کو روکا گیا۔ پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات ہوئی، شہبازشریف نے یہ بات پیس بورڈ اجلاس میں بھی دہرائی اور کہا کہ ٹرمپ کی کوششوں سے ہماری جنگ رکی۔
امریکی صدر نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ بعض فیصلوں میں حکومت کی کارکردگی کو سراہا جانا اچھی بات ہے، تاہم عالمی دباؤ کے باوجود انہوں نے اہم اقدامات کیے جو ان کے نزدیک کامیابی کے مترادف ہیں۔ اس ٹیرف نے ہمیں بڑی نیشنل سیکیورٹی فراہم کی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کے لیے انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے کہا کہ وہ ایک ڈالر بھی چارج نہیں کر سکتے، یعنی وہ ٹیرف لگانے کے لیے قانونی طور پر پیسہ وصول نہیں کر سکتے۔ انھوں نے کہا کہ عدالت نے انہیں تجارتی پابندیاں لگا کر کسی بھی ملک کو نقصان پہنچانے کی اجازت تو دے دی، لیکن اس کے لیے رقم وصول کرنے کی اجازت نہیں دی، جو ان کے خیال میں غلط ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے باوجود ان کے پاس متبادل طریقے موجود ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ لائسنس دینے کا اختیار رکھتے ہیں، لیکن لائسنس فیس وصول کرنے کا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے اس فیصلے سے ان کے ٹیرف کو آگے بڑھانے کی اہلیت پر کوئی پابندی نہیں ہے اور وہ اپنی پالیسیوں کو دیگر طریقوں سے نافذ کر سکتے ہیں۔
.png)
3 weeks ago
17




English (US) ·