Times of Pakistan

سفارتی مہارت اور پائیدار حل کی امید

9 hours ago 1
ARTICLE AD BOX

واشنگٹن ڈی سی کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی جسے سیکیورٹی حکام نے ناکام بنادیا،فائرنگ سے ڈنر کی تقریب میں افراتفری مچ گئی ، حملہ کرنے والے امریکی شہری کول ایلن کو موقع پر گرفتارکرلیاگیاجس سے تفتیش جاری ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ روسی صدر ولادمیر پیوتن سمیت اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے ۔ اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی دو دن میں دوسری مرتبہ اسلام آباد کے دورے پر پہنچے، جہاں انھوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی یہ 24گھنٹے میں ان کی فیلڈ مارشل سے دوسری ملاقات ہے، دونوں رہنماؤں نے ایران اور امریکا کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے فریم ورک پر بات چیت کی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کے حوالے سے مثبت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کا بے حد احترام کرتے ہیں اور ملکی قیادت کو قابلِ قدر سمجھتے ہیں۔امریکی میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف دونوں باصلاحیت اور قابل احترام شخصیات ہیں۔

عالمی سیاست کے حالیہ منظرنامے میں بظاہر تعطل اور غیر یقینی کی کیفیت دراصل ایک گہری اور پیچیدہ سفارتی کشمکش کا اظہار ہے، جہاں ہر فریق اپنی حکمت عملی کو نہایت احتیاط کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی محض دو ممالک کا تنازع نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسا بحران بن چکی ہے جس کے اثرات عالمی معیشت، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی طاقت کے توازن تک پھیل چکے ہیں۔

ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حالیہ قاتلانہ حملے کی کوشش نے اس صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، کیونکہ جب کسی بڑی عالمی طاقت کا سربراہ خود عدم تحفظ کا شکار ہو تو اس کے اثرات صرف داخلی سیاست تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی سفارتی عمل پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔یہ امر غیرمعمولی ہے کہ صدر ٹرمپ پر یہ تیسری مرتبہ قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ ہر بار محفوظ رہے۔ یہ واقعات امریکی معاشرے میں بڑھتی ہوئی تقسیم، انتہا پسندی اور سیاسی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔

اگرچہ امریکی حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو گرفتار کر لیا اور صورتحال کو قابو میں رکھا، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ایسے واقعات ریاستی استحکام اور عالمی اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان کہ حملہ آور ذہنی طور پر بیمار تھا اور اس کا ایران سے کوئی واضح تعلق نہیں، ایک حد تک کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش ضرور ہے، مگر بین الاقوامی تعلقات میں اکثر تاثر حقیقت سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعے نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع بظاہر طاقت کے اظہار، عسکری برتری اور سیاسی دباؤ کا کھیل نظر آتا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں سفارت کاری کی ایک مسلسل اور خاموش جدوجہد بھی جاری ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ کہنا کہ ایران اگر چاہے تو براہ راست رابطہ کر سکتا ہے اور جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے، اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ واشنگٹن مکمل تصادم کے بجائے ایک قابلِ قبول راستہ تلاش کر رہا ہے۔

دوسری طرف ایران کی قیادت بھی مکمل انکار کے بجائے مشروط آمادگی کا مظاہرہ کر رہی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ دونوں فریق کسی نہ کسی سطح پر مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورے اسی سفارتی عمل کا اہم حصہ ہیں۔ ان کا مختصر عرصے میں دو مرتبہ پاکستان آنا، پھر روس کا رخ کرنا اور اس سے قبل عمان، سعودی عرب، قطر، مصر اور فرانس کے ساتھ رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تہران ایک ہمہ جہت سفارتی مہم چلا رہا ہے۔ یہ محض رسمی ملاقاتیں نہیں بلکہ ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد اپنے مؤقف کو عالمی سطح پر قابلِ قبول بنانا اور ممکنہ مذاکرات کے لیے حمایت حاصل کرنا ہے۔

 پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم کردار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ جغرافیائی قربت، مذہبی و ثقافتی روابط اور متوازن خارجہ پالیسی نے اسلام آباد کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر سکے۔ فیلڈمارشل عاصم منیر کے ساتھ عباس عراقچی کی مسلسل ملاقاتیں اور اعلیٰ سطح  پر مشاورت اس امر کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کو ایک سنجیدہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی شرائط،جن میں آبنائے ہرمز کا نیا انتظامی نظام، فوجی جارحیت کے خاتمے کی ضمانت، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور جنگی نقصانات کا ازالہ شامل ہیں،بظاہر سخت معلوم ہوتی ہیں، مگر سفارتی تناظر میں یہ ایک ابتدائی پوزیشن ہوتی ہے جس میں بعد ازاں لچک پیدا کی جا سکتی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا روس کا دورہ بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، جہاں ان کی ملاقات ولادیمیر پیوتن سے متوقع ہے۔ روس، جو پہلے ہی عالمی سیاست میں ایک کلیدی طاقت کے طور پر ابھر چکا ہے، اس بحران میں بھی ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماسکو نہ صرف ایران کا قریبی اتحادی ہے بلکہ وہ مغربی دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی ایک مخصوص توازن میں رکھتا ہے۔ ایسے میں روس کی کوشش ہوگی کہ وہ اس بحران کو ایک ایسے حل کی طرف لے جائے جو اس کے اسٹر ٹیجک مفادات کے ساتھ ساتھ خطے میں استحکام کو بھی یقینی بنائے۔

یہ تمام سفارتی سرگرمیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بظاہر تعطل کے باوجود مذاکراتی عمل مکمل طور پر رکا نہیں ہے۔ درحقیقت یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جہاں فریقین اپنی پوزیشن مضبوط کرنے، اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنے اور ممکنہ سمجھوتے کے لیے بہتر شرائط پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف سخت بیانات اور عسکری تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف رابطے، ملاقاتیں اور ثالثی کی کوششیں بھی تیز ہو رہی ہیں۔

معاشی سطح پر اس کشیدگی کے اثرات پہلے ہی نمایاں ہو چکے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار اس صورتحال کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز، جو دنیا کی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، وہاں کشیدگی کے باعث جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف توانائی کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، اگر یہ بحران طول پکڑتا ہے تو اس کے نتائج ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں اقسام کی معیشتوں کے لیے نقصان دہ ہوں گے۔صدر ٹرمپ کا پاکستان کے حوالے سے مثبت بیان بھی اس تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔

انھوں نے نہ صرف پاکستان کی قیادت کی تعریف کی بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ انھوں نے ماضی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکنے میں کردار ادا کیا۔ شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان اگر اس بحران میں موثر ثالثی کا کردار ادا کرتا ہے تو یہ اس کی عالمی حیثیت کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف خطے میں امن کے امکانات بڑھیں گے بلکہ پاکستان کو ایک ذمے دار اور فعال عالمی کردار کے طور پر بھی تسلیم کیا جائے گا۔

اس پورے منظرنامے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ عالمی طاقتیں بھی اس بحران کو اپنے اپنے مفادات کے تناظر میں دیکھ رہی ہیں۔ چین، روس، یورپی ممالک اور خلیجی ریاستیں سب اس بات کی کوشش کر رہی ہیں کہ نہ صرف اپنے اقتصادی اور سیکیورٹی مفادات کا تحفظ کریں بلکہ خطے میں اپنی پوزیشن کو بھی مستحکم بنائیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بحران محض ایک دوطرفہ تنازع نہیں بلکہ ایک کثیرالجہتی اسٹرٹیجک مقابلہ بن چکا ہے۔

ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا درست ہوگا کہ موجودہ تعطل دراصل ایک عبوری مرحلہ ہے۔ مذاکرات کا عمل، چاہے سست روی کا شکار ہو، مکمل طور پر رکا نہیں ہے۔ سفارتی سرگرمیاں، بیانات میں لچک، اور مختلف ممالک کی ثالثی کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک حل کی تلاش جاری ہے۔ البتہ یہ حل فوری طور پر سامنے آئے گا یا نہیں، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ فریقین اپنے اپنے مؤقف میں کس حد تک لچک پیدا کرتے ہیں۔

اگر طاقت کے استعمال کو ترجیح دی گئی تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر سفارت کاری کو موقع دیا گیا، تو ایک ایسا حل ممکن ہے جو نہ صرف موجودہ بحران کو ختم کرے بلکہ مستقبل میں اس نوعیت کے تنازعات کے لیے ایک مثال بھی قائم کرے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں عالمی قیادت کو دانشمندی، تحمل اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک طرف تصادم کا خطرہ ہے، تو دوسری طرف امن کی امید۔ فیصلہ کن عنصر وہی ہوگا جو ہمیشہ رہا ہے یعنی سیاسی ارادہ، سفارتی مہارت اور حقیقت پسندی۔

Read Entire Article