Times of Pakistan

سعودیہ کی مشرق وسطیٰ کے ممالک اور ایران کے درمیان عدم جارحیت معاہدے کی تجویز

8 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

ایران جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر سعودی عرب نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے عدم جارحیت سے متعلق معاہدے کی تجویز پر اتحادی ممالک سے مشاورت شروع کردی ہے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے سفارتکاروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس تجویز کا مقصد جنگ کے بعد خطے میں امن و استحکام کیلئے نئی راہیں تلاش کرنا ہے۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اتحادی ممالک اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ ایسے ممکنہ معاہدے پر بات چیت کررہا ہے جس کے ذریعے ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کیا جاسکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ریاستوں کو اس بات پر تشویش ہے کہ جنگ کے بعد انہیں ایک زیادہ سخت گیر ایرانی حکومت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جبکہ خطے میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کا امکان بھی موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق کئی یورپی ممالک اور یورپی یونین کے ادارے سعودی تجویز کی حمایت کررہے ہیں اور خلیجی ممالک پر بھی اس کی حمایت کیلئے زور دیا جارہا ہے۔

دو مغربی سفارتکاروں نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ریاض کیلئے انیس سو ستر کی دہائی کا “ہیلسنکی عمل” ایک ممکنہ ماڈل ہوسکتا ہے، جس نے سرد جنگ کے دوران یورپ میں کشیدگی کم کرنے اور اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب خطے میں ایک ایسے فریم ورک کی کوشش کررہا ہے جس کے ذریعے ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتحال میں تصادم کے امکانات کم کیے جاسکیں اور علاقائی استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔

Read Entire Article