Times of Pakistan

سرکاری ملازمین کی تنخواہ اورپنشن میں 7 فی صد اضافے کا اعلان

1 hour ago 3
ARTICLE AD BOX

بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت 10 فی صد بڑھانے اور تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کی تجویزشامل

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آئندہ مالی سال 27-2026 کا وفاقی بجٹ پیش کر رہے ہیں، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فی صد اضافے سمیت تنخواہ دار طبقے کے لیے مختلف ٹیکس ریلیف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری ہے جہاں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے مختلف مالی اور معاشی اقدامات کا اعلان کر رہے ہیں۔

بجٹ تقریر میں انہوں نے کہا کہ حکومت تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹیکس ڈھانچے میں تبدیلیاں متعارف کرا رہی ہے تاکہ متوسط آمدن رکھنے والے افراد پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔

وزیر خزانہ کے مطابق سالانہ 22 لاکھ روپے سے 32 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے تنخواہ دار افراد پر انکم ٹیکس کی شرح 20 فی صد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جب کہ 32 لاکھ روپے سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس کی شرح 25 فی صد ہوگی۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فی صد اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔ اسی طرح ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فی صد اضافے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ بڑھتی مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔

وزیر خزانہ نے کم سے کم ماہانہ اجرت میں 10 فی صد اضافے کی تجویز بھی پیش کی، جس کے تحت کم سے کم تنخواہ میں 3 ہزار 700 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد کم سے کم ماہانہ تنخواہ 40 ہزار 700 روپے ہو جائے گی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات عوام کی قوتِ خرید میں بہتری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے، جبکہ ان کا مقصد کم آمدن والے طبقے کو معاشی سہارا فراہم کرنا بھی ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ دستاویزات اور فنانس بل کے مسودے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے دوران کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فی صد اضافے کی بھی منظوری دی۔

اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا ہے اور امکان ہے کہ اس حوالے سے مختلف گریڈز کے ملازمین کے لیے الگ حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کو نسبتاً زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی تجویز زیر غور رہی تاکہ کم اور متوسط آمدن والے سرکاری ملازمین کو زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات، مالیاتی نظم و ضبط اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ تجاویز مرتب کی گئی ہیں، جن کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں کو ضروری مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔

Read Entire Article