Times of Pakistan

سائیٹ ایریا کی ٹیکسٹائل فیکٹری میں تیسرے درجے کی آتشزدگی، ہنگامی الرٹ جاری

2 weeks ago 10
ARTICLE AD BOX

شائع 26 فروری 2026 08:13pm

کراچی کے سائیٹ ایریا میں قائم ٹیکسٹائل فیکٹری میں لگنے والی آگ کو میئر کراچی نے تیسرے درجے کی قرار دے دیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہنگامی اقدامات اور واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

کراچی کے صنعتی علاقے سائیٹ ایریا میں واقع ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی کے باعث آسمان سیاہ دھویں سے بھر گیا۔ آگ کی شدت کے پیش نظر میئر کراچی نے اسے تیسرے درجے کی آگ قرار دیتے ہوئے شہر بھر میں الرٹ جاری کردیا۔

فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جب کہ ریسکیو عملہ بھی امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ آگ کی اطلاع ملتے ہی کیماڑی پولیس کی نفری بھی موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو کارروائی میں سہولت فراہم کر رہی ہے۔

وزیراعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہنگامی اقدامات کرنے اور آگ لگنے کی وجوہات کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے ریسکیو آپریشن تیز کرنے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ خطرناک مواد ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے صنعتی علاقوں میں فائر سیفٹی اور کیمیکل اسٹوریج کے فوری معائنے اور مشترکہ انسپکشن مہم شروع کرنے کا بھی حکم دیا ہے، جب کہ آڈٹ رپورٹ فوری طور پر وزیراعلیٰ آفس میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزدوروں کی جانوں سے کھیلنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب میئر کراچی نے مزید فائر بریگیڈ گاڑیاں اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے متعلقہ افسران کو فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچنے کی ہدایت کی ہے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے اطراف کے افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے اور ریسکیو کارروائی میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی بھی ہدایت کی۔ میئر نے واٹر کارپوریشن کو بھی ریسکیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون یقینی بنانے کا کہا ہے۔

جاوید عالم اوڈھو نے پولیس حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ فائر بریگیڈ اور 1122 ریسکیو عملے کی بروقت رسائی کے لیے راستے کلیئر رکھے جائیں تاکہ امدادی کارروائیوں میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔

حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ واقعے میں جانی یا مالی نقصان کی حتمی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکی ہیں۔

Read Entire Article