Times of Pakistan

ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملہ، دنیا بھی کو گیس سپلائی خطرے میں پڑ گئی

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

جب اس فیلڈ یا اس سے جڑے انفراسٹرکچر پر حملہ ہوتا ہے تو پوری دنیا میں گیس کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔

شائع 19 مارچ 2026 06:41pm

ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حملہ اس لیے اہم ہے کیونکہ اس نے نہ صرف ایران کا غصہ مزید بھڑکایا ہے بلکہ دنیا بھر میں توانائی یعنی تیل اور گیس کی فراہمی پر بھی براہ راست اثر ڈالا ہے۔

ساؤتھ پارس دراصل دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس کے ذخیرے کا حصہ ہے، جو خلیج فارس میں واقع ہے اور ایران اور قطر کے درمیان بٹا ہوا ہے۔ قطر اپنے حصے کو نارتھ ڈوم کہتا ہے۔

اس گیس فیلڈ میں اندازاً 1800 کھرب مکعب فٹ گیس موجود ہے، جو دنیا کی توانائی ضروریات کو تقریباً 13 سال تک پورا کر سکتی ہے۔

ایران کے لیے یہ گیس اس کی گھریلو توانائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، جس سے بجلی پیدا کی جاتی ہے اور گھروں کو گرم رکھا جاتا ہے۔

یہ معاملہ صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی بہت اہم ہے۔

قطر دنیا میں مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ہے، اور اس کی زیادہ تر پیداوار اسی گیس فیلڈ سے آتی ہے۔

جب اس فیلڈ یا اس سے جڑے انفراسٹرکچر پر حملہ ہوتا ہے تو پوری دنیا میں گیس کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔

ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران نے ردعمل میں قطر کے اہم صنعتی شہر راس لفان کو نشانہ بنایا، جو دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی پروسیسنگ مرکز ہے۔

قطر انرجی کے مطابق اس حملے میں بڑا نقصان ہوا ہے۔ اگر اس مرکز کی بحالی میں تاخیر ہوتی ہے تو دنیا میں ایل این جی کی سپلائی میں نمایاں کمی آسکتی ہے، کیونکہ عالمی ایل این جی کا تقریباً پانچواں حصہ قطر سے آتا ہے۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے عالمی گیس مارکیٹ کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔

کمپنی ووڈ میکینزی کے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ”یہ حملے عالمی ایل این جی مارکیٹ کا منظرنامہ بنیادی طور پر تبدیل کر رہے ہیں“ اور اب گیس کی سپلائی میں خلل دو ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے قطر کی توانائی تنصیبات پر حملے بند نہ کیے تو وہ ”ساؤتھ پارس کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے“۔

دوسری طرف انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو اسرائیلی حملے کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، حالانکہ ایک اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی امریکا کے ساتھ مل کر کی گئی۔

خطے کے دیگر ممالک نے بھی ان حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے اسے ”سنگین کشیدگی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف توانائی کی فراہمی بلکہ علاقائی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے، جبکہ قطر نے اسے ”خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قدم“ کہا۔

اس دوران سرمایہ کاری بینک ’جیفریز‘ سے وابستہ معاشی ماہر موہت کمار نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ سے گفتگو میں کہا کہ ”امریکا کوشش کر رہا تھا تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جائے، لیکن اسرائیل کے اس حملے نے ظاہر کر دیا کہ جیسے جیسے جنگ بڑھتی جائے گی، کوئی ریڈ لائن نہیں بچے گی۔“

عالمی سطح پر اس کے اثرات پہلے ہی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ایشیا اور یورپ میں گیس کی قیمتیں 60 سے 70 فیصد تک بڑھ چکی ہیں، جبکہ یورپ میں گیس کی قیمتیں دوگنی ہو گئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق متبادل سپلائی بہت کم ہے اور اتنی بڑی مقدار میں گیس کو کسی اور جگہ سے حاصل کرنا ”حقیقت پسندانہ نہیں لگتا“۔

اس بحران کا اثر عام لوگوں تک بھی پہنچ رہا ہے۔ بھارت میں گیس کی فراہمی محدود کر دی گئی ہے جبکہ پاکستان میں ایندھن بچانے کے لیے اسکول بند کیے گئے ہیں اور سرکاری دفاتر کے اوقات کار کم کیے گئے ہیں۔ بنگلہ دیش میں بھی گیس کی شدید قلت کے باعث صنعتوں کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے سینٹر آن گلوبل انرجی پالیسی کی محقق این سوفی کوربو نے بھی سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”گیس کے بحران کا فوری کوئی حل موجود نہیں ہے“ اور اگر ابھی توانائی کی بچت شروع نہ کی گئی تو بعد میں بہت دیر ہو جائے گی۔

قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ ”اگر یہ جنگ چند ہفتے مزید جاری رہی تو دنیا کی معاشی ترقی متاثر ہوگی، توانائی کی قیمتیں بڑھ جائیں گی اور کئی مصنوعات کی قلت پیدا ہو جائے گی، جس سے فیکٹریوں کا نظام بھی متاثر ہوگا۔“

مجموعی طور پر ماہرین کا کہنا ہے کہ ساؤتھ پارس پر حملہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسا واقعہ ہے جس نے عالمی توانائی کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر گہرے پڑ سکتے ہیں۔

Read Entire Article