ARTICLE AD BOX
شائع 07 جولائ 2026 10:06am
بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے کچھ مانگی فیز تھری میں دہشت گردوں نے پولیس پر ایک بڑا حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں نو پولیس اہلکار شہید ہو گئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر زیارت نے اس افسوسناک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تمام شہید اہلکاروں کی لاشوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال زیارت منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کل رات سے ہی دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا اور ہمارے بہادر اہلکار رات بھر ان دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز دہشت گردوں نے بیس سے زائد افراد کو اغوا کر لیا تھا، جن میں تھانے کے ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج بھی جاری ہے۔
مظاہرین اور مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہ تمام پولیس اہلکار مانگی ڈیم کی ایک زیر تعمیر ٹینکی پر ڈیوٹی کے لیے تعینات تھے، جہاں نامعلوم مسلح افراد آئے اور انہیں اپنے ساتھ اٹھا کر لے گئے۔
مظاہرین نے یہ بھی بتایا کہ خوش قسمتی سے پانچ مغوی افراد اغوا کاروں کے چنگل سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جبکہ باقی لوگوں کو بچانے کے لیے پولیس نے علاقے میں بڑا آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری طرف اس اغوا اور حملے کے خلاف لوگوں میں شدید غصہ پھیل گیا ہے اور ضلع پشین کے علاقے زیارت کراس پر شہریوں نے قومی شاہراہ کو احتجاجاً بلاک کر دیا ہے۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اغوا کیے جانے والے تمام افراد کو فوری طور پر باحفاظت بازیاب کرایا جائے۔
.png)
1 hour ago
2







English (US) ·