Times of Pakistan

ریلوے کے مسائل

7 hours ago 1
ARTICLE AD BOX

پاکستان ریلوے کے حالات اتنے تشویشناک ہیں کہ ہر روز کسی نہ کسی حادثے کی خبر آتی ہے۔

tauceeph gmail com


طویل ترین سفر کا سستا و محفوظ ذریعہ ،پاکستان ریلوے مسلسل تنزلی کا شکار ہے چین کی مدد سے پشاور سے کراچی تک منصوبہ Mail line one(ML1)  کب تعمیر ہو گا ؟ارباب اختیار کو اس سوال کا واضح جواب دینا چاہیے۔کیا رواں مالی سال میں ریلوے میں بہتری ہو جائے گی، ریلوے وفاقی وزیر کو اس بارے میں پارلیمنٹ میں خصوصی وضاحت کرنی چاہیے ۔

پاکستان ریلوے کے حالات اتنے تشویشناک ہیں کہ ہر روز کسی نہ کسی حادثے کی خبر آتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ریلوے کے ہر سال اوسطا 107 حادثات ہوتے ہیں۔ ویکی پیڈیا کے مطابق 2020 میں سب سے زیادہ 840 حادثات ہوئے تھے۔قومی اسمبلی میں ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا تھا کہ گزشتہ سال کے اختتام تک گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ریلوے کے 448 حادثات ہوئے ،ان میں 164 بڑے حادثات تھے۔

 ان حادثات میں 169 افراد جاں بحق ہوئے تھے چند ماہ قبل شالیمار ایکسپریس ایک حادثے کا شکار ہوئی جب انجینئرز نے شالیمار ایکسپریس کے ڈبوں کا معائنہ کیا تو پتہ چلا کہ بیشتر ڈبوں کے بریک کام ہی نہیں کر رہے تھے۔ ایک افسر کا کہنا تھا کہ لودھراں سے روہڑی تک کا ریلوے ٹریک انتہائی خطرناک ہو چکا ہے۔ اس سیکشن پر سب سے زیادہ حادثات ہوتے ہیں مگر ملک کے باقی علاقوں کا ریلوے ٹریک بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتا ہے۔ ریلوے حکام ہر حادثے کے بعد تحقیقات کا اعلان کرتے ہیں مگر کم ہی عمل درآمد ہوتا ہے۔

پاکستان ریلوے کی تاریخ عجیب دلچسپ ہے ۔نارتھ ویسٹرن اسٹیٹ ریلوے 1886 میں قائم ہوئی، جس کا ہیڈ کوارٹر لاہور میں بنایا گیا تھا۔ پشاور سے کراچی تک 7 ہزار 540 کلومیٹر طویل ریلوے لائن تعمیر کی گئی۔ اس سے پہلے 13 مئی 1886 کو سندھ میں کراچی سے کوٹری تک پہلی ریلوے لائن تعمیر کی گئی تھی، اس کے ساتھ کراچی اور لاہور کو ریل کے ذریعے کوئٹہ سے ملا دیا گیا تھا مگر پاکستان بننے کے بعد حکومتوں نے ریلوے ٹریک کی تعمیر پر توجہ نہیں دی ۔اس وقت پاکستان ریلوے کے پاس براڈ گیج کی 7346 کلومیٹر اور میٹر گیج کی 445 کلومیٹر طویل ریلوے لائن ہیں۔

اس وقت ریلوے کے صرف 448 ریلوے اسٹیشن کام کر رہے ہیں، آج بھی پورے ملک میں پاکستان ریلوے ان دو تین وزارتوں میں شامل ہے جس کی جائیدادیں پورے ملکوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ مختلف رپورٹوں کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری وزارتوں، خود مختار سرکاری اداروں اور مافیاز نے ریلوے کی قیمتی زمینوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ کراچی ریلوے کلب ،افسر کلب و ملازمین کی تفریح اور شادی بیاہ کی تقاریب کا کبھی مرکز ہوتا تھا، مگر یہ کلب ریلوے کے پاس نہیں ہے۔

ایک رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1975 سے 1995 تک ریلوے ایک منافع بخش ادارہ سمجھا جاتا تھا ،عام آدمی کو ریل کی سروس پر اعتماد تھا، ریل گاڑیاں وقت پر چلتی تھیں، ڈبوں میں صفائی ہوتی ،ڈبوں کے ساتھ باتھ روم میں پانی بھی دستیاب ہوتا تھا اور مسافروں کو یہ اعتماد ہوتا تھا کہ وہ مقررہ وقت پر آرام اور تحفظ کے ساتھ پہنچ جائیں گے ۔اس وقت ایئر کنڈیشن راستے میں خراب نہیں ہوتے تھے، نہ گاڑی کا انجن کبھی راستے میں رکتا تھا ،مگر پھر ریلوے کا انتظامی معیار بگڑنے لگا ،ایک وقت تھا جب سمجھوتہ ایکسپریس لاہور سے دہلی اور تھر ایکسپریس کراچی سے میر پور خاص کے راستے بھارت کی ریاست راجستھان تک جاتی تھی۔

ریلوے میں بدعنوانی بڑھتی چلی گئی۔ ٹرانسپورٹ مافیا نے ریلوے افسران سے اپنے مفاد میں پالیسیاں بنانا شروع کر دی۔ اس بدعنوانی کی بڑی مثال کراچی سرکلر ریلوے ہے۔ صدر ایوب خان نے کراچی ٹرانسپورٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کراچی سرکل ریلوے تعمیر کی تھی۔ سرکل ریلوے کی لائن ایک طرف لانڈھی پپری سے کیماڑی تک کیماڑی سے وزیر مینشن اور پھر وزیر مینشن سے ناظم آباد، لیاقت آباد، سائٹ ،گلشن اقبال ، کراچی یونیورسٹی سے ہوتی ہوئی شاہراہ فیصل کو عبور کر کے مرکزی لائن سے مل جاتی تھی کراچی میں 60 سے 80کی دہائی تک لانڈھی ملیر سے آئی آئی چندریگر روڈ آنے اور واپسی کے لیے سرکل ریلوے سب سے سستی اور وقت پر پہنچنے والی سواری تھی۔

یہ سرکل ریلوے صبح اور شام کے اوقات میں ہر 15 منٹ بعد چلا کرتی تھی۔ مسافر لانڈھی، ملیر اور ڈرگ کالونی سے 15 سے 20 منٹ میں آئی آئی چندریگر روڈ تک پہنچ جاتے تھے جو لوگ کینٹ اسٹیشن پر اترتے تھے وہ ٹرام کے ذریعے چند ہی منٹوں میں صدر پہنچ جایا کرتے تھے۔ملک کی وال اسٹریٹ آئی آئی چندریگر روڈ جانے کے لیے سرکلر ریلوے انتہائی مناسب تھی، سائٹ کے کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں، کراچی یونیورسٹی اور دور دراز علاقے کے طالب علموں کے لیے سرکل ریلوے ایک بہترین سفر کا ذریعہ تھی۔

 ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت سرکلر ریلوے کا نظام فیل ہونے لگا ،ریل گاڑی نے وقت پر آنا چھوڑ دیا۔ انجن راستے میں خراب ہو جاتے تھے ،ڈبوں کی صفائی پر توجہ نہیں دی جاتی تھی، بلب اور پنکھے کام نہیں کرتے تھے ،ریل کے ڈبوں میں لوٹ مار عام ہو گئی تھی یوں سرکلر ریلوے آہستہ آہستہ سکڑنے لگی پھر ایک وقت آیا کہ لوگوں نے سرکلر ریلوے پر اعتماد کرنا چھوڑ دیا اور مجبورا منی بسوں پر سفر کرنے لگے۔ سن 87 میں کراچی میں بد امنی کا آغاز منی بس کنڈکٹروں کے عوام کے جھگڑوں سے ہوا تھا ،اس بد امنی نے کراچی کی ترقی کو روک دیا، اگر اس وقت حکمران سرکلر ریلوے کی تباہی پر توجہ دیتے، اس کے دائرہ کار میں توسیع کی جاتی اور انڈر گراؤنڈ ٹرین کا منصوبہ شروع کر دیا جاتا تو کراچی بد امنی کا شکار نہیں ہوتا اور ایک آج ایک جدید شہر ہوتا ۔

 ایک وقت تھا جب ریل میں ایک لاکھ ستر ہزار افراد ملازم تھے اور روزانہ 160 گاڑیاں پورے ملک میں مختلف سمتوں میں چلا کرتی تھیں ۔پرویز مشرف کا دور ریلوے کے لیے تباہی کا دور ثابت ہوا۔ اس دور میں ریلوے کے وزیر نے ریلوے کے ٹریک بچھانے، نئے انجن اور ڈبے تیار کرنے یا خریدنے کی بجائے ریلوے کے کارکنوں کی چھانٹی کو ہی مسئلے کا حل جانا تھا ۔اس دور میں ریلوے کی محنت کشوں کی یونین پر پابندی لگا دی گئی اور کئی ہزار کارکنوں کو بغیر جواز کے ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

ریلوے جائیدادوں کی فروخت کا سلسلہ بھی شروع ہوا ، یوں ریلوے کو تباہ کردیا گیا اور ریلوے سے متعلق ہزاروں خاندانوں کا مستقبل مخدوش ہوگیا، پھر راولپنڈی کے شیخ رشید ریلوے کے وزیر بنے ، مگر اس دور میں بھی بے مقصد اعلانات کرنے اور پرانی گاڑیوں پر نئے نام رکھ کر نام و نمود حاصل کرنے پر رقم خرچ کی گئی، یوں ریلوے کی تباہی میں فرق نہیں آیا۔پیپلز پارٹی کی چوتھی حکومت میں ریلوے کے حالات مزید خراب ہوتے چلے گئے اور یہ بات عام ہو گئی کہ حکومت کو پاکستان ریلوے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور عام آدمی یقین کرنے لگا کہ ریل گاڑی کا وقت پر کسی منزل پر پہنچنا ناممکن ہو گیا۔

 جب 2013 میں میاں نواز شریف دوبارہ وزیراعظم بنے تو سعد رفیق کو ریلوے کا وزیر مقرر کیا گیا، ان کی کوششوں سے گاڑیاں وقت چلنے لگی مگر یہ دور بڑا مختصررہا۔ جنرل مشرف کی حکومت میں ریل گاڑیوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنے کی اسکیم شروع ہوئی تھی اور اہم ریل گاڑیوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کر دیا گیا تھا ،مگر پرائیویٹ سیکٹر کو شامل کرنے کا تجربہ ناکام ثابت ہوا اور پرائیویٹ پارٹیاں کروڑوں روپے کی لائبلٹیز چھوڑ کر اورریلوے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا کر لاپتا ہو گئیں۔ موجودہ حکومت نے ریلوے کی بحالی کا نعرہ لگایا، اس مقصد کے لیے لاہور کراچی کینٹ اسٹیشن کی بہترین تزین و آرائش کی گئی ریلوے مسافروں کو انٹرنیٹ کی نئی سہولت فراہم کی گئی، اب گھر بیٹھے ریلوے کی بکنگ ہو سکتی ہے، مسافروں کے لیے آرام دہ ویٹنگ روم بنائے بنائے گئے ہیں مگر ایک عام شکایت یہ ہے کہ ان سب میں داخلہ ٹکٹ کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔

 پاکستان ریلوے کی مال گاڑیوں کو متحرک کیا جائے اور تیز رفتار مال گاڑیاں چلائی جائیں اور مال گاڑیوں کا کرایہ ٹرالر سے کم رکھا جائے تو اس سے نہ صرف پٹرول اور ڈیزل کی بچت ہوگی بلکہ سڑک پر حادثات بھی کم ہو جائیں گے اور ماحولیات بھی بہتر ہوگی۔ اس کے ساتھ ریلوے کی آمدنی میں خاطر کا اضافہ ہوگا۔ بزنس ایڈمنسٹریشن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ریلوے کے کارگو نظام کو بہتر کیا جائے تو ریلوے کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ ریلوے کے ملازمین کو اعتماد میں لیا جائے ۔

 پاکستان ریلوے اور بھارت کے ریلوے کی ایک ہی تاریخ ہے ، بھارت کی ریلوے کا شمار دنیا کی بہترین ریلویزمیں ہوتا ہے۔ پاکستانی ماہرین کو بھارت کے ریلوے کے تجربے سے سیکھنا چاہیے ،اگر پاکستان کی ریلوے کو سائنٹیفک بنیادوں پر چلایا جائے تو یہ ایک کامیاب ادارہ بن سکتا ہے۔ریلوے مزدور یونین کے رہنما مقدر خا ن کا کہنا ہے کہ ریلوے کے اعلیٰ افسران کی کرپشن جب تک ختم نہیں ہوگی، ریلوے کی حالت بہتر نہیں ہوگی۔ریلوے کو بہتر بنانے کے لیے مکمل طور پر کرپشن کا خاتمہ کیا جائے اور یہ بھی ضروری ہے کہ مزدوروں کے بنیادی مسائل حل کیے جائیں۔

Read Entire Article