ARTICLE AD BOX
منی پور میں مسیحی رہنماؤں اور عیسائی تنظیم تھڈو بیپٹسٹ ایسوسی ایشن کے صدر سمیت تین مذہبی پیشواؤں کا لرزہ خیز قتل مودی سرکار کے امن کے دعوؤں اور بھارتی سیکولرازم کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ اقلیتوں پر یہ منظم حملہ اور ریاستی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں مذہبی رہنماؤں کے لیے زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ کُکی تنظیموں کا احتجاج اور شدید ردعمل دراصل اس مفلوج نظام کے خلاف آواز ہے جو اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ مذہبی کانفرنس سے واپسی پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا جس میں اعلی عیسائی پیشوا اور متعدد پادری شدید زخمی ہو گئے۔ مقامی تنظیموں کا شدید ردعمل سامنے آیا جس پر احتجاج اور شاہراہیں بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس واقعے سے مودی سرکار کے امن کے دعووں کی دھجیاں اڑ گئیں۔ منی پور میں ریاستی خاموشی پر سوالات، مذہبی پیشواؤں کا قتل عام اور مسلح جتھوں کی بلا اشتعال جارحیت نے مودی حکومت کی فاسیشت سوچ کو عیاں کردیا۔ عالمی سطح پر جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹنے والا بھارت منی پور کے لوگوں کا خود دشمن نکلا۔
.png)
12 hours ago
2





English (US) ·