ARTICLE AD BOX
حکمرانوں کا خیال تھا کہ سخت سزاؤں کے ذریعے معاشرے پر بہتر کنٹرول رکھا جا سکتا ہے۔
قدیم چین میں ایسے عجیب اور سخت قوانین موجود تھے جنہیں آج کے دور میں لوگ سن کر حیران رہ جاتے ہیں۔ تاریخی ریکارڈز کے مطابق اُس زمانے میں بعض ایسے کام بھی جرم تصور کیے جاتے تھے جو عام انسانی رویہ سمجھے جاتے ہیں، جن میں عوامی مقام پر رونا اور خراب لکھائی شامل تھے۔
تاریخ دانوں کے مطابق قدیم چینی حکمران معاشرے میں نظم و ضبط برقرار رکھنے، عوام کو قابو میں رکھنے اور شہنشاہ سے وفاداری قائم رکھنے کے لیے سخت قوانین نافذ کرتے تھے۔ ان قوانین کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ لوگوں میں خوف پیدا کرنا اور انہیں مکمل فرمانبردار بنانا بھی تھا۔
قِن خاندان کے دور حکومت میں بالغ مردوں کے رونے کو کمزوری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ حکومتی اہلکاروں کا ماننا تھا کہ مردوں کے آنسو طاقت اور بہادری کے اُس تصور کو نقصان پہنچاتے ہیں جو ریاست اپنے شہریوں میں دیکھنا چاہتی تھی۔ اسی وجہ سے اگر کسی مرد کو روتے ہوئے دیکھا جاتا تو اسے سزا دی جا سکتی تھی۔ تاریخی حوالوں کے مطابق ایسے افراد کی بھنویں اور داڑھی مونڈ دی جاتی تھیں تاکہ انہیں عوام کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے اور دوسروں کے لیے بھی یہ ایک مثال بن جائے۔
اسی طرح سوئی خاندان کے دور میں شاہی امتحانی نظام کے دوران ایک اور حیران کن قانون سامنے آیا۔ اس دور میں سرکاری امتحانات انتہائی اہم سمجھے جاتے تھے کیونکہ ان کے ذریعے عام لوگ بھی حکومتی عہدے حاصل کر سکتے تھے۔ ان امتحانات میں صرف علم ہی نہیں بلکہ لکھائی کو بھی بہت اہمیت دی جاتی تھی۔
صاف اور خوبصورت لکھائی کو شہنشاہ کے احترام اور اعلیٰ کردار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ تاریخی ریکارڈز کے مطابق اگر کسی امیدوار کی لکھائی خراب یا بےترتیب ہوتی تو اسے بطور سزا سیاہی پینے پر مجبور کیا جا سکتا تھا۔
رپورٹس کے مطابق قدیم چین میں بعض سزائیں اس سے بھی کہیں زیادہ سخت اور خوفناک تھیں۔ تاریخی دستاویزات میں چہرے پر مستقل نشان یا ٹیٹو بنانے، جسم کے بعض اعضا کاٹنے اور مخصوص جرائم پر عوامی پھانسی دینے جیسی سزاؤں کا ذکر بھی ملتا ہے۔
کئی مرتبہ سزاؤں کا مقصد صرف جسمانی تکلیف پہنچانا نہیں ہوتا تھا بلکہ مجرم کو پوری زندگی کے لیے معاشرتی طور پر بدنام اور رسوا کرنا بھی شامل ہوتا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قوانین اُس دور کی سماجی اور حکومتی سوچ کی عکاسی کرتے تھے جہاں اطاعت، نظم و ضبط اور اختیار کا احترام ریاستی نظام کو قائم رکھنے کے لیے ضروری سمجھا جاتا تھا۔ حکمرانوں کا خیال تھا کہ سخت سزاؤں کے ذریعے معاشرے پر بہتر کنٹرول رکھا جا سکتا ہے۔
اگرچہ قدیم چین کے یہ سخت اور عجیب قوانین اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں، لیکن آج بھی یہ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے حیرت اور دلچسپی کا باعث ہیں کیونکہ جدید دور کے قوانین اور انسانی حقوق کے تصورات ان سے بالکل مختلف ہیں۔
.png)
9 hours ago
1




English (US) ·