ARTICLE AD BOX
سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی رابطے بھی بحال رکھے تاکہ تنازع کو بڑے پیمانے پر پھیلنے سے روکا جا سکے: رپورٹ
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ سعودی عرب نے اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کے جواب میں ایران کے اندر متعدد فوجی کارروائیاں کی ہیں۔
برطوانی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی عرب نے براہِ راست ایرانی حدود میں عسکری طاقت کا استعمال کیا ہو، جو اس بات کی علامت ہے کہ مملکت اب اپنے دفاع کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ سخت موقف اپنا رہی ہے۔
یہ حملے مارچ کے آخر میں سعودی فضائیہ کی جانب سے کیے گئے تھے، جنہیں ماہرین نے جیسے کو تیسا کی بنیاد پر کی جانے والی جوابی کارروائی قرار دیا ہے۔
اگرچہ سعودی عرب روایتی طور پر اپنے دفاع کے لیے امریکا پر انحصار کرتا رہا ہے، لیکن حالیہ جنگ نے ثابت کیا ہے کہ امریکی دفاعی چھتری اب مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں رہی۔
اس صورتحال میں سعودی عرب کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات نے بھی ایران پر حملے کیے، جس سے اس پوشیدہ جنگ کی اصل شکل واضح ہوتی ہے کہ خلیجی ممالک اب خاموش رہنے کے بجائے جواب دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
تاہم، سعودی عرب کا طریقہ کار متحدہ عرب امارات سے مختلف رہا ہے؛ جہاں امارات نے سخت گیر موقف اپنایا، وہیں سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی رابطے بھی بحال رکھے تاکہ تنازع کو بڑے پیمانے پر پھیلنے سے روکا جا سکے۔
سعودی عرب کے دفترِ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے براہِ راست حملوں کی تصدیق تو نہیں کی، لیکن انہوں نے رائٹرز کو کہا کہ ہم کشیدگی میں کمی، ضبطِ نفس اور خطے کے استحکام، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنے مستقل موقف کا اعادہ کرتے ہیں۔
دوسری جانب سابق سعودی انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے ایک مضمون میں مملکت کی حکمتِ عملی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ جب ایران اور دیگر نے مملکت کو تباہی کی بھٹی میں جھونکنے کی کوشش کی، تو ہماری قیادت نے اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے پڑوسی کی طرف سے ملنے والے دکھوں کو برداشت کرنے کا انتخاب کیا۔
رپورٹس کے مطابق، ان جوابی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید سفارتی کوششیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں ایک غیر رسمی معاہدہ طے پایا کہ کشیدگی کو مزید نہیں بڑھایا جائے گا۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے ڈائریکٹر علی واعظ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سعودی عرب کے جوابی حملے اور پھر کشیدگی کم کرنے کی مفاہمت یہ ظاہر کرتی ہے کہ دونوں اطراف اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہیں کہ بے لگام دشمنی کے نتائج ناقابلِ قبول ہوں گے۔
اس مفاہمت کے بعد مارچ کے آخری ہفتے میں سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی تعداد 105 سے کم ہو کر اپریل کے آغاز میں محض 25 رہ گئی تھی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران نے براہِ راست حملوں کو محدود کر دیا ہے۔
.png)
17 hours ago
5




English (US) ·