ARTICLE AD BOX
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اس طرح کے حملے عموماً رات کے اندھیرے میں کیے جاتے ہیں۔
شائع 01 مارچ 2026 12:13pm
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لیے ہفتے کی صبح کا وقت کیوں چنا گیا، اس حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، جیسے ہی انٹیلی جنس ذرائع سے یہ تصدیق ہوئی کہ خامنہ ای اپنے اعلیٰ مشیروں کے ساتھ ایک میٹنگ کرنے والے ہیں، اسرائیل اور امریکا نے اپنی فضائی اور بحری کارروائی کا آغاز کر دیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کا بنیادی مقصد خامنہ ای کو اچانک نشانہ بنانا تھا تاکہ انہیں کہیں چھپنے کا موقع نہ مل سکے۔
رپورٹ کے مطابق، پہلے یہ توقع تھی کہ یہ اہم ملاقات ہفتے کی شام کو ہوگی، لیکن جب اسرائیلی خفیہ اداروں کو معلوم ہوا کہ ملاقات ہفتے کی صبح ہی ہو رہی ہے تو حملے کا وقت تبدیل کر دیا گیا۔
تہران میں خامنہ ای کے انتہائی محفوظ کمپاؤنڈ پر حملے کے ساتھ ہی اس آپریشن کا آغاز ہوا اور سیٹلائٹ تصاویر سے اس جگہ کی مکمل تباہی کی تصدیق ہوئی۔
حملے کے وقت خامنہ ای کے ساتھ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سابق سیکرٹری علی شمخانی اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی موجود تھے جو اس حملے میں مارے گئے، تاہم علی لاریجانی اس حملے میں بچ گئے اور انہوں نے سخت جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کی صبح خامنہ ای کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے سوگ کا اعلان کیا اور ان کی وفات کو شہادت قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس حملے میں خامنہ ای کے خاندان کے کچھ افراد بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔
اس حملے کے فوراً بعد ایران نے اسرائیل سمیت خطے کے کئی ممالک پر ڈرونز اور میزائلوں سے جوابی حملہ شروع کر دیا۔
.png)
1 week ago
7




English (US) ·