ARTICLE AD BOX
سوشل میڈیا کیلئے حدود مقرر کرنی چاہئیں، ہماری بھی فیملیز ہیں، ہمارے لیے مشکل ہوجاتی ہے، سابق وزیراعظم
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ کچھ دن پہلے ایک خاتون ڈرگ ڈیلر نے میرا نام لیا، اس خاتون کے وکیل نے کہا کہ مجھ پر دباؤ ہے کہ راجہ پرویز اشرف کا نام لوں۔ قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ میں نے بے داغ زندگی گزاری ہے، اس خاتون نے پہلے کسی اور شخص کا نام لیا، ایسا نظام وضع ہونا چاہئے کہ تحقیق مکمل ہونے تک کسی کا نام نہ لیا جائے، نظام نہ ہونے کی وجہ سے شرفاء کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں۔ خاتون کی جانب سے وضاحت آگئی لیکن سوشل میڈیا پر بات جاری رہی۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کیلئے کچھ حدود مقرر کرنے چاہئیں، بے بنیاد الزامات کی اجازت ہمارا مذہب بھی نہیں دیتا، ہماری بھی فیملیز ہیں، ہمارے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے، معاملے کا نوٹس لینے پر اسپیکر کا شکر گزار ہوں۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ایک وی لاگر نے الزامات لگائے جس کیخلاف ہم نے کارروائی شروع کی، غلط الزامات لگانے والوں کیخلاف کیا ہمیں کارروائی نہیں کرنی چاہیے، راجہ پرویز اشرف کو ہر کوئی جانتا ہے، آج ایک راجہ پرویز اشرف ہیں تو کل کوئی اور ہوسکتا ہے، آج داخلہ کمیٹی میں راجہ پرویز اشرف کا مسئلہ دیا جاچکا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ راجہ پرویز اشرف کے اپنے اچھے کردار کی وجہ سے کوئی بھی ان الزامات پر یقین نہیں کررہا، حکومت ہر رکن کی عزت کے لئے کسی بھی فورم پر جائے گی اور سخت ایکشن لے گی، جو چالاک ملزم ہوتے ہیں وہ بڑے نام لیکر تفتیش کا رُخ موڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وزیر قانون نے کہا کہ سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا پر اس منشیات گرل کو بار بار دکھایا گیا، میڈیا کے اس کردار کو بھی پیمرا اور وزارت اطلاعات کو دیکھنا چاہئے، قوانین موجود ہیں، دیکھنا ہوگا کہ قوانین پر بلا امتیاز عمل ہونا چاہئے، گندگی کے اس عمل کو انجام تک پہنچائیں گے، ملزم کو بند کمرے میں عدالت لایا جانا چاہئے۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ منشیات دیمک کی طرح معاشرے نوجوان نسل کو کھا رہا ہے، مرکزی و صوبائی حکومتوں سے بھی کہیں گے کہ منشیات روکنے پر تیزی سے عمل کریں۔
.png)
15 hours ago
1




English (US) ·