ARTICLE AD BOX
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ایک خصوصی انٹرویو میں اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال ہر رکاوٹ عبور کرتے ہوئے وطن واپس آئیں گی۔ انہوں نے اپنے خلاف مقدمات اور سزائے موت کے فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی لیگ کو ختم کرنا ممکن نہیں، کیونکہ یہ صرف ایک جماعت نہیں بلکہ عوام کی طاقت ہے۔
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ ان کی وطن واپسی کسی ذاتی خواہش کا نتیجہ نہیں بلکہ ملک میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور عوام کے سیاسی حقوق کی بحالی سے جڑی ہوئی ہے۔
بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کو ای میل کے ذریعے دیے گئے خصوصی انٹرویو میں شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ اقتدار کے لیے نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے عوام کی خدمت اور بانیِ بنگلہ دیش شیخ مجیب الرحمٰن کے ”سنہری بنگلہ“ کے خواب کی تکمیل کے لیے سیاست کرتی ہیں۔
انہوں نے اپنے خلاف سزائے موت کے فیصلے کو انصاف نہیں بلکہ غیر آئینی، غیر قانونی اور سیاسی انتقام پر مبنی کارروائی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عدلیہ کو عوامی لیگ کو قیادت سے محروم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ موت سے نہیں ڈرتیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1975 میں انہوں نے اپنے والدین، بھائیوں اور خاندان کے بیشتر افراد کو کھو دیا تھا، جبکہ 21 اگست کے گرینیڈ حملے میں بھی انہیں نشانہ بنایا گیا، لیکن تمام سازشوں کے باوجود وہ عوام کے ساتھ کھڑی رہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے ووٹوں سے پانچ مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئیں اور اپنے دورِ حکومت میں ملک کی ترقی کے لیے کام کیا، اسی لیے وہ پورے یقین سے کہتی ہیں کہ تمام رکاوٹوں اور سازشوں کے باوجود رواں سال اپنے وطن واپس آئیں گی۔
عوامی لیگ کی سیاسی قوت سے متعلق سوال پر شیخ حسینہ نے کہا کہ عوامی لیگ کوئی کاغذی تنظیم نہیں بلکہ بنگال کی سرزمین، عوام، تاریخ اور بنگالی قوم کی شناخت سے جڑی ہوئی ایک مضبوط سیاسی قوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپنے 77 سالہ سفر کے دوران عوامی لیگ پر کئی بار پابندیاں لگیں، کارکنوں نے قربانیاں دیں اور جماعت کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مگر ہر بار عوام کی طاقت کے ذریعے یہ جماعت پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھری۔
.png)
1 hour ago
1






English (US) ·